حیدرآباد (دکن فائلز) مسجد اقصیٰ کی نگرانی اور سرپرستی سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل مبینہ طور پر ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت مسجد اقصیٰ پر اردن کی تاریخی سرپرستی ختم کر کے ایک نیا انتظامی ڈھانچہ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی ہے اور اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کے انتظامی معاملات میں زیادہ اختیارات دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 1948 سے اردن مسجد اقصیٰ اور یروشلم کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کا نگران چلا آ رہا ہے۔ 1994 کے اردن۔اسرائیل امن معاہدے میں بھی اردن کی اس خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2013 میں فلسطینی قیادت نے بھی ہاشمی سرپرستی کی توثیق کی تھی۔
رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے ان دعوؤں کو ’’مکمل طور پر غلط‘‘ قرار دیا، تاہم اردنی حکام نے بھی فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ پر ہاشمی سرپرستی بین الاقوامی معاہدوں کے تحت محفوظ ہے اور اس میں کسی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
مسلم دانشوران کا کہنا ہے کہ اگر ایسی کسی کوشش کو عملی جامہ پہنایا گیا تو اس سے خطے میں شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ مسجد اقصیٰ عالم اسلام کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے دھاووں اور مسجد اقصیٰ کے عملے پر پابندیوں نے پہلے ہی حالات کو کشیدہ بنا رکھا ہے۔


