حیدرآباد (دکن فائلز) غزہ سے ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں ایک فلسطینی شہری اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ پراسرار حالات میں لاپتہ ہو گیا جبکہ بچے کو زخمی حالت میں واپس کیا گیا۔ محمد ابو نصار نامی شخص کو اطلاع ملی کہ اس کا بیٹا اسامہ اپنے ننھے بیٹے جواد کو لے کر ایک ایسے علاقہ کی طرف جا رہا ہے جسے اسرائیلی فوج نے “خطرناک زون” قرار دے رکھا ہے۔
یہ علاقہ، جسے مقامی طور پر “پیلی لائن” کہا جاتا ہے، زندگی اور موت کے درمیان حد سمجھا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اسامہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا اور اس کے کندھوں پر اس کا شیرخوار بچہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی ذہنی حالت پہلے ہی خراب تھی، جس کی وجہ حالیہ بمباری میں اس کا ذریعہ معاش ختم ہونا تھا۔
کچھ دیر بعد فائرنگ شروع ہوئی اور ایک ڈرون کے ذریعہ احکامات دیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق اسامہ کو گولی لگی، جس کے بعد اس نے بچے کو زمین پر رکھا اور خود آگے بڑھ گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
بعد ازاں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ذریعہ بچے کو خاندان کے حوالے کیا گیا، تاہم اس کے جسم پر شدید زخموں کے نشانات پائے گئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے کے جسم پر جلنے اور گہرے زخموں کے آثار تھے، جو مبینہ طور پر تشدد کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بچے کو الاقصیٰ شہداء ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ اس وقت وہ شدید درد، بخار اور صدمہ کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ دوسری جانب اسامہ کی حالت اور مقام کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آسکی، جس کے باعث خاندان شدید کرب اور بے یقینی کا شکار ہے۔


