حیدرآباد (دکن فائلز) ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی جنگ بندی تجویز پر اپنا باضابطہ جواب ارسال کر دیا ہے، جس میں فوری جنگ بندی، نقصانات کے ازالے اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے بدھ کی شب امریکہ کی تجاویز کا تفصیلی جواب دے دیا ہے اور اب واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ دشمن کی جانب سے تمام فوجی حملے اور جارحیت فوری طور پر بند کی جائے، جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے قابلِ عمل اور ٹھوس ضمانتیں فراہم کی جائیں، اور جنگ کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔
ایران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں اور تمام مزاحمتی گروپوں پر یکساں طور پر ہونا چاہیے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔ ایرانی مؤقف میں آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ تہران نے واضح کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر اس کا قانونی اور فطری حق تسلیم کیا جانا لازمی ہے، تاکہ دیگر فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “فریب” قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن مذاکرات کے نام پر اپنے دیگر مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، جن میں عالمی سطح پر امن کا تاثر دینا، تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے وقت حاصل کرنا شامل ہے۔
ایران نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات، خصوصاً حالیہ جنگ کے دوران، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ نے مذاکرات کو بارہا عسکری کارروائیوں کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا، جس کے باعث اب تہران کو کسی بھی سنجیدہ بات چیت پر شدید شکوک ہیں۔
واضح رہے کہ رواں برس مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں نے شرکت کی۔ تاہم یہ عمل زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور عسکری شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف اور خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تازہ پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کا جواب محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعہ وہ اپنے قومی مفادات، علاقائی اثر و رسوخ اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔


