مسجد اقصیٰ 30 دن سے بند! عالمِ اسلام میں شدید غم و غصہ، اسرائیلی دہشت گردی پر نام نہاد انصاف پسند دنیا خاموش کیوں؟

حیدرآباد (دکن فائلز) مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مقدس ترین اسلامی مقام مسجد اقصیٰ کی طویل بندش نے عالمِ اسلام میں شدید تشویش، غم و غصہ اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے اس تاریخی مسجد کو رمضان المبارک، عیدالفطر اور اس کے بعد بھی مسلسل بند رکھنا نہ صرف مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی پامالی بھی کہا جا رہا ہے۔

مصر کے ممتاز دینی ادارے الازہر الشریف نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر اخلاقی اور ناقابل قبول عمل قرار دیا۔ اپنے بیان میں الازہر نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی بندش فلسطینی مسلمانوں کو ان کے بنیادی مذہبی حقوق سے محروم کر رہی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز نے بھی مسجد اقصیٰ کو فوری طور پر نمازیوں کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتحاد نے اس بندش کو ایک غیر معمولی اور خطرناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بیان میں اسلامی ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر مؤثر اور متحدہ ردعمل دیں تاکہ اس مقدس مقام کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھا جا سکے۔

اتحاد نے علماء، خطباء اور عوام سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کے خطبات میں مسجد اقصیٰ کی اہمیت کو اجاگر کریں اور پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے دینی جذبات کا اظہار کریں۔ ساتھ ہی اسلامی ممالک کے سربراہان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، عالمی سطح پر آواز بلند کریں اور ایک مشترکہ اسلامی کانفرنس بلائیں۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اس پیش رفت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بندش میں اپریل کے وسط تک توسیع اسرائیل کی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔ حماس کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی کے نام پر نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کا مقصد مسجد کو نمازیوں سے خالی کروا کر اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام نے مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کی بندش کو کم از کم 15 اپریل تک بڑھا دیا ہے۔ اس حوالے سے یروشلم اسلامک وقف کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مسجد 28 فروری سے مسلسل بند ہے، جب اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

مسجد اقصیٰ کی عظمت اور فضیلت

مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جہاں ایک نماز کا ثواب دیگر مساجد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بتایا گیا ہے۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ نے معراج کا سفر شروع فرمایا، جسے واقعہ معراج کہا جاتا ہے۔ ابتدائی دورِ اسلام میں یہی مسجد قبلۂ اول بھی رہی، جو مسلمانوں کے دینی، روحانی اور تاریخی شعور کا ایک اہم حصہ ہے۔

عالمی خاموشی اور بڑھتا ہوا اضطراب

عالمِ اسلام میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ مسلسل مذمتوں کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ ناقدین کے مطابق اسرائیل عالمی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جس سے نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ مسجد اقصیٰ کی موجودہ بندش کو صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے دینی وقار اور شناخت کا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مسلمانانِ عالم کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں اور عالمی برادری کو اس سنگین صورتحال کا نوٹس لینے پر مجبور کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں