پانچ سو سے زائد امریکی فوجی جہنم رسید: امریکہ کو ایران کی سخت دھمکی، زمینی فوج آئی تو “شارک کی خوراک” بن جائے گی

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ میزائل حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ جنوبی فارس کے علاقے میں ایک امریکی جنگی طیارہ فالکن ایف 16 کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ طیارہ سعودی عرب کے ایک ایئربیس تک پہنچنے سے قبل ہی تباہ ہو گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے مقبوضہ فلسطین سمیت خطے میں امریکی اور اسرائیلی صنعتی مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفاگری نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی زمینی فوج نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے “تباہ کن نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے زمینی کارروائیوں اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے کی دھمکیاں حقیقت سے عاری ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی افواج اس طرح کی کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی افواج پہلے ہی خطے میں شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اگر کوئی نئی مہم جوئی کی گئی تو امریکی فوجیوں کو گرفتاری یا مکمل تباہی جیسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ حملہ آور فوجیوں کا انجام خلیج فارس میں “شارک مچھلیوں کی خوراک” بننا ہوگا۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرنے دعویٰ کیا ہے کہ حیفہ میں ایک اسٹریٹجک الیکٹرانک وارفیئر سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بین گوریون ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ذخائر پر بھی حملہ کیا گیا۔

ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی صنعتی تنصیبات پر مزید حملے کیے گئے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے، جس سے خطے میں بڑے تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں