حیدرآباد (دکن فائلز) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جھڑپوں نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے، جبکہ امریکہ بھی اس تنازع میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ وہیں ایرانی فوج کے ترجمان نے میڈیا کو جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ پاسداران انقلاب نے متحدہ عرب امارات میں خفیہ مقام پر جاری امریکی فوجیوں کی میٹنگ کے مقام کو ہدف بنایا جس میں 37 امریکی فوجی مارے گئے۔
ترجمان ایرانی فوج نے بتایاکہ خلیج فارس میں اسرائیلی حکومت کے تیل بردار ٹینکر ایکو آ ون کوبھی نشانہ بنایا جس کے بعد اس اسرائیلی آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ صبح سے لے کر اب تک باسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے بڑے پیمانے پر پانچ آپریشن کیے ہیں جن کے دوران امارات، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید برآں ایران کی جانب سے آج صبح ایک ڈرون حملے میں شمالی بحر ہند میں “ابراہم لنکن” طیارہ بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے باعث جہاز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
ایرانی حکام کے مطابق دارالحکومت تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 33 ہزار رہائشی مکانات متاثر ہو چکے ہیں۔ میئر کے ترجمان کے مطابق کئی گھروں کو معمولی نقصان پہنچا، جبکہ بڑی تعداد میں عمارتیں شدید متاثر ہوئیں جنہیں مکمل تعمیر نو کی ضرورت ہے۔
حکام نے بتایا کہ ان حملوں کے باعث 1,869 خاندان بے گھر ہو گئے ہیں، جن میں سے 1,245 خاندانوں کو شہر کے مختلف رہائشی کمپلیکس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بحالی کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک 4 ہزار سے زائد گھروں کی مرمت شروع کی جا چکی ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “جو بھی ایران پر حملہ کرے گا، اس کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے۔” انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس دوران امریکی صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ماہ میں ایران کے اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ فوجی آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا اور کہا کہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کر دی، جس کے نتیجے میں تل ابیب سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق
ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام خط میں کہا کہ ایران کو غلط طور پر خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے 1953 کی بغاوت اور پابندیوں کو عدم اعتماد کی بنیادی وجوہات قرار دیا اور بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔


