الحمدللہ! 40 روز کی طویل بندش کے بعد قبلہ اول کے دروازے کھل گئے! فرزندانِ توحید کی مسجدِ اقصیٰ میں آمد، فضا تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھی

حیدرآباد (دکن فائلز) عالمِ اسلام کے لیے آج کی صبح ایک اچھی خبر لے کر آئی جب 40 روز کی طویل اور کربناک بندش کے بعد مسلمانوں کے قبلہ اول، مسجدِ اقصیٰ کے دروازے نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیے گئے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کا بہانہ بنا کر اسرائیلی حکام نے مقدس مقامات پر تالے ڈال دیے تھے، جنہیں آج علی الصبح ہٹا دیا گیا۔

جیسے ہی مسجد کے دروازے کھلنے کا اعلان ہوا، مقبوضہ بیت المقدس کے گلی کوچوں سے لبیک یارسول اللہ اور اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ فلسطینیوں کی بڑی تعداد، جن میں بوڑھے، بچے اور نوجوان شامل تھے، آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں شکرانے کے جذبات لیے اپنے مقدس مقام کی طرف دوڑ پڑے۔ 40 دن تک اذان اور باجماعت نماز سے محروم رہنے والے صحنِ قدس میں ایک بار پھر سجدہ ریز ہونے کی سعادت حاصل کر کے نہال ہو گئے۔

مسجدِ اقصیٰ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی غیرت، تاریخ اور عقیدت کا مرکز ہے۔
قبلہ اول: یہ وہ مقدس مقام ہے جس کی طرف رخ کر کے مسلمانوں نے ایک طویل عرصے تک نمازیں ادا کیں۔
سفرِ معراج کا اہم سنگ میل: یہ وہی سرزمین ہے جہاں حضور اکرم ﷺ نے شبِ معراج تمام انبیاء کی امامت فرمائی اور یہاں سے سفرِ سدرۃ المنتہیٰ کا آغاز ہوا۔
تیسرا مقدس ترین مقام: اسلامی تعلیمات کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد مسجدِ اقصیٰ وہ تیسرا مقام ہے جس کی زیارت کے لیے رختِ سفر باندھنے کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔

بیت المقدس کی فضائیں آج ایک بار پھر تلاوتِ قرآن سے معطر ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ظلم کی رات چاہے کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، حق کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے یہ مقام اتحاد و یگانگت کا محور ہے اور اس کی آزادی و حفاظت ہر کلمہ گو کے ایمان کا حصہ ہے۔ 40 دن بعد مسجد کا کھلنا جہاں خوش آئند ہے، وہیں یہ عالمی ضمیر کے لیے ایک سوال بھی ہے کہ کیوں بار بار مسلمانوں کو ان کے بنیادی مذہبی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں