اسرائیلی فتنہ پروری کی ایک اور مثال! جنگ بندی کے باوجود نتن یاہو نے ٹانگ اڑادی، ایران کا شدید ردعمل، امریکہ ایک بار پھر اسرائیل کے جال میں پھنس گیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ اسرائیل نے لبنان میں اپنی “فتنہ پروری” کا آغاز کر کے خطے کے امن کو ایک بار پھر داؤ پر لگا دیا ہے۔ لبنان میں جاری حالیہ اسرائیلی جارحیت نے جہاں عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، وہی ایرانی قیادت نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس جال سے باہر نکلے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی شرائط بالکل واضح اور دو ٹوک ہیں۔ انہوں نے لبنان میں جاری قتل عام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے”۔ امریکہ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی امن چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو طول دینا چاہتا ہے، کیونکہ جنگ بندی اور حملے دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کو اس ڈیل سے الگ قرار دیتے ہوئے ایران کو ایک بار پھر سخت نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ لبنان کبھی بھی ایران جنگ بندی کا حصہ نہیں تھا اور اگر صورتحال غیر متوقع ہوئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ بڑے اور طاقتور حملے کیے جائیں گے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے پاکستان کی ثالثی میں شروع ہو رہے ہیں، تاہم انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے اسے معاہدے سے الگ قرار دیا۔

اسرائیلی فضائی حملوں نے لبنان میں قیامت صغریٰ برپا کر دی ہے۔ لبنان سول ڈیفنس کے مطابق صرف ایک روز میں 254 سے زائد لبنانی شہری شہید ہو چکے ہیں، جس کے بعد لبنان حکومت نے ملک بھر میں یومِ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ تمام سرکاری ادارے بند اور قومی پرچم سرنگوں ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر یہ خلاف ورزیاں بند نہ ہوئیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں