حیدرآباد (دکن فائلز) طبی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ماہرین نے ٹائپ-1 ذیابیطس کے ممکنہ علاج کے لیے ایک انقلابی طریقہ متعارف کرایا ہے۔ برطانیہ کا نامور اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس نئی تحقیق کے مطابق ایک واحد انجکشن مستقبل میں مریضوں کو روزانہ انسولن لینے سے نجات دلا سکتا ہے۔
ٹائپ-1 ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبہ (پینکریاز) میں انسولن بنانے والے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے، جس کے باعث مریض کو زندگی بھر انسولن پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس بیماری سے متاثر ہیں اور روزانہ انجکشن، مسلسل مانیٹرنگ اور سخت طرزِ زندگی اپنانا ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔
نئی تحقیق میں “KRIYA-839” نامی جین تھراپی تیار کی گئی ہے، جو روایتی طریقوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے تحت مریض کے اپنے پٹھوں کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ طویل عرصے تک انسولن پیدا کریں۔ سائنسدانوں کے مطابق ایک بار ران میں انجکشن لگانے کے بعد پٹھوں کے خلیات انسولن اور دیگر ضروری پروٹین بنانے لگیں گے، جس سے بلڈ شوگر قدرتی طور پر کنٹرول میں رہ سکے گی۔
یہ تھراپی ڈی این اے میں مستقل تبدیلی نہیں کرتی بلکہ خلیات کو مخصوص ہدایات فراہم کرتی ہے تاکہ وہ کنٹرولڈ انداز میں انسولن بناتے رہیں۔ ابتدائی تجربات میں یہ طریقہ چار سال تک مؤثر ثابت ہوا ہے، جبکہ ماہرین کو امید ہے کہ اس کے اثرات دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
یہ آزمائش اس سال انسانوں پر پہلی بار کی جائے گی، جس میں ایسے بالغ افراد کو شامل کیا جائے گا جن کا بلڈ شوگر قابو میں نہیں رہتا۔ مریضوں کو ایک ہی نشست میں دونوں رانوں میں انجکشن دیا جائے گا، اور دو سے تین ماہ میں اس کے مکمل اثرات ظاہر ہونے کی توقع ہے۔
برطانیہ کے قومی ادارہ صحت (NHS) کے ماہر ڈاکٹر پارتھا کار کے مطابق یہ طریقہ “انتہائی امید افزا” ہے اور اگر کامیاب ہوا تو لاکھوں مریضوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ تاہم ماہرین نے احتیاط برتنے کی بھی تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے فوری طور پر مکمل علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
دیگر ماہرین کے مطابق اگر یہ تھراپی مکمل علاج نہ بھی بن سکے تو بھی یہ انسولن کی ضرورت کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے، جو بذات خود ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
اگر آئندہ آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ دریافت ذیابیطس کے علاج میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں روزمرہ کے علاج کی جگہ ایک مرتبہ کا علاج کافی ہوگا—اور یہی امید لاکھوں مریضوں کے لیے ایک نئی روشنی بن کر ابھر رہی ہے۔


