حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے معروف سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین ایک مشتبہ ’’ہٹ اینڈ رن‘‘ واقعہ میں شدید زخمی ہوگئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے علاج کے دوران آخری سانس لی۔ یہ واقعہ شہر کے مصروف علاقہ مساب ٹینک، وجئے نگر کالونی کے قریب پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار کار نے انہیں زور دار ٹکر ماری اور موقع سے فرار ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق مرحوم حیدرآباد کے معروف وکیل غلام یزدانی کے داماد تھے۔
رپورٹس کے مطابق خواجہ معزالدین اپنے گھر کے قریب موجود تھے کہ اچانک ایک کار نے تیز رفتاری سے انہیں نشانہ بنایا۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ وہ سڑک پر گر پڑے اور انہیں شدید چوٹیں آئیں۔ مقامی افراد اور راہگیروں نے فوری طور پر انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں وہ جاں بحق ہوگئے۔
ابتدائی طور پر اس واقعہ کو عام سڑک حادثہ سمجھا جارہا تھا، تاہم بعد میں بعض اطلاعات کے مطابق پولیس اس زاویہ سے بھی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا یہ واقعہ محض حادثہ تھا یا پھر جان بوجھ کر گاڑی چڑھا کر قتل کی کوشش کی گئی۔ بعض مقامی رپورٹس میں اسے ’’اٹیمپٹ ٹو مرڈر‘‘ یعنی قتل کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
نامپلی پولیس اسٹیشن حدود میں پیش آئے اس واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اطراف کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جارہی ہے تاکہ فرار ہونے والی گاڑی اور اس کے ڈرائیور کی شناخت کی جاسکے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کئی زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین حیدرآباد کی قانونی برادری میں ایک معروف نام مانے جاتے ہیں۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی وکلاء، سماجی شخصیات اور مختلف حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کئی وکلاء نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ کے ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہورہے ہیں، جن میں زخمی ایڈوکیٹ کو سڑک پر پڑا دیکھا جاسکتا ہے جبکہ لوگ انہیں امداد فراہم کررہے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے واقعہ کے وقت مشتبہ گاڑی یا ڈرائیور کو دیکھا ہو تو فوری طور پر معلومات فراہم کریں تاکہ ملزم تک جلد پہنچا جاسکے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2058081908676804706


