بڑی خبر: جس کا خدشہ تھا وہی ہوا؟ اترپردیش میں ’امید‘ پورٹل پر درج 31 ہزار سے زائد وقف املاک مسترد، مسلم حلقوں میں شدید تشویش و غم و غصہ

حیدرآباد (دکن فائلز) وقف ترمیمی قانون 2025 کے نفاذ کے بعد اترپردیش میں وقف املاک کے اندراج کے لیے بنائے گئے ’’امید پورٹل‘‘ پر ایک نئی اور تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے اب تک 31 ہزار سے زائد وقف املاک کی رجسٹریشن مسترد کردی ہے، جس کے بعد مسلم حلقوں میں شدید بے چینی، غم و غصہ اور اضطراب پایا جارہا ہے۔ کئی دینی و سماجی تنظیموں نے اس صورتحال کو مسلمانوں کے مذہبی و ملی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش میں وقف بورڈ کے تحت رجسٹرڈ وقف املاک کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے زیادہ ہے۔ وقف ترمیمی قانون 2025 کے تحت ان تمام املاک کا ’’امید پورٹل‘‘ پر اندراج لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس عمل کا آغاز 5 جون 2025 سے ہوا تھا اور ابتدائی چھ ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد ٹربیونل کی جانب سے مزید چھ ماہ کی مہلت دی گئی، جو اب 5 جون 2026 کو ختم ہورہی ہے۔ اس طرح وقف املاک کے اندراج اور تصحیح کے لیے اب دو ہفتے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک لاکھ 18 ہزار 744 وقف املاک پورٹل پر درج کی جاچکی ہیں، تاہم ان میں سے 31 ہزار 318 درخواستیں مختلف ’’تکنیکی خامیوں‘‘، نامکمل معلومات یا دستاویزات میں تضاد کی بنیاد پر مسترد کردی گئی ہیں۔ وقف بورڈ کے اہلکار متولیان اور کمیٹیوں کے ذمہ داران کو فون کے ذریعہ مطلع بھی کررہے ہیں تاکہ وہ مقررہ وقت کے اندر غلطیوں کی اصلاح کرکے دوبارہ درخواست جمع کریں، لیکن اس کے باوجود مسترد درخواستوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

مسلم تنظیموں اور وقف سے وابستہ ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں وقف املاک کا مسترد ہونا نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اس سے ہزاروں مساجد، مدارس، قبرستان، عیدگاہوں اور دینی اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔ کئی علماء اور سماجی کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر وقت پر اصلاح نہ ہوسکی تو ان املاک کی قانونی حیثیت خطرہ میں پڑسکتی ہے۔

قانون کے مطابق جو وقف املاک ’’امید پورٹل‘‘ پر درج نہیں ہوں گی، انہیں قانونی طور پر وقف تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ قانون میں ایسے معاملات میں مقدمات اور سزاؤں کی تجاویز بھی شامل ہیں، جس کی وجہ سے وقف اداروں کے ذمہ داران شدید دباؤ میں ہیں۔

مسلم حلقوں میں اس بات کو لے کر بھی غم و غصہ پایا جارہا ہے کہ حکومت ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ تو دیتی ہے، لیکن وقف املاک کے معاملہ میں پیچیدہ ضوابط اور سخت شرائط نے مسلم اداروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوں میں موجود وقف املاک کے پاس مکمل دستاویزات یا ڈیجیٹل سہولتیں موجود نہیں ہیں، جس کے باعث ہزاروں درخواستیں تکنیکی بنیادوں پر مسترد ہورہی ہیں۔

سنی سینٹرل وقف بورڈ کے افسران کے مطابق 5 جون 2026 تک تمام وقف املاک کا اندراج اور مسترد شدہ درخواستوں کی اصلاح لازمی ہے، جبکہ بورڈ کو 30 جون تک پورٹل پر جمع شدہ درخواستوں کی جانچ اور منظوری مکمل کرنی ہوگی۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ جن املاک کو مسترد کیا گیا ہے، ان کی وجوہات واضح طور پر متعلقہ افراد کو بتائی جارہی ہیں تاکہ وقت کے اندر اصلاح ممکن ہوسکے۔

سیاسی اور سماجی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں ایک بڑا ملی اور قانونی مسئلہ بن سکتا ہے۔ کئی دینی اداروں اور مسلم تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اندراج کی مدت میں توسیع کی جائے، تکنیکی پیچیدگیوں کو آسان بنایا جائے اور وقف املاک کو غیر ضروری قانونی خطرات سے محفوظ رکھا جائے تاکہ تاریخی اور مذہبی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں