ماں کی قربانی، بیٹے کی کامیابی: سن رائزرزحیدرآباد کے تیز گیند باز ثاقب حسین کی کہانی آپ کو رلا دے گی (ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) کہتے ہیں کہ محنت، حوصلہ اور ماں کی دعائیں انسان کو ناممکن راستوں سے بھی کامیابی تک پہنچا دیتی ہیں، اور اس کی تازہ مثال نوجوان فاسٹ بولر ثاقب حسین ہیں، جنہوں نے غربت اور مشکلات کے باوجود اپنی محنت سے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شاندار ڈیبیو کرکے سب کو متاثر کر دیا۔

بہار کے ضلع گوپال گنج سے تعلق رکھنے والے ثاقب حسین کا سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ ایک وقت تھا جب ان کے گھر میں دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا تھا، مگر خواب بڑے تھے اور ہمت اس سے بھی بڑی۔ ان کے والد ایک کسان تھے لیکن گھٹنوں کی تکلیف کے باعث کام جاری نہ رکھ سکے، جس کے بعد گھر کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں۔

ثاقب کی زندگی کا سب سے جذباتی پہلو ان کی والدہ کی قربانی ہے۔ جب ثاقب کو کرکٹ کے لیے اسپائکس جوتوں کی ضرورت پڑی تو مالی حالات اجازت نہیں دے رہے تھے۔ بیٹے کی آنکھوں میں اداسی دیکھ کر ماں نے اپنے زیورات بیچ کر اسے جوتے خرید کر دیے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ثاقب کے حوصلے کو نئی پرواز دی اور انہیں یہ یقین دلایا کہ محنت کا راستہ کبھی ضائع نہیں جاتا۔

ابتدائی طور پر ثاقب فوج میں بھرتی ہونا چاہتے تھے اور اس کے لیے تیاری بھی کرتے رہے، لیکن قسمت نے انہیں کرکٹ کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ ٹینس بال سے کھیلتے کھیلتے ان کی صلاحیتیں نکھرتی گئیں اور دوستوں کے مشورے پر انہوں نے پروفیشنل کرکٹ کا رخ کیا۔

ان کی محنت رنگ لائی جب انہیں پہلی بار کولکاتہ نائٹ رائیڈرز نے 2024 میں خریدا، تاہم انہیں کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ بعد ازاں سن رائزرز حیدرآباد نے آئی پی ایل 2026 کے لیے انہیں ٹیم میں شامل کیا، اور ثاقب نے اپنے پہلے ہی میچ میں 4 اوورز میں 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔

یہ کارنامہ انہیں ان کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کر گیا جنہوں نے آئی پی ایل ڈیبیو میں چار یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اس کامیابی پر سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مضبوط فٹنس کے مالک ہیں اور ان کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔

ثاقب حسین کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر انسان کے ارادے مضبوط ہوں اور وہ مسلسل محنت کرتا رہے تو حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ اور جب ماں کی دعائیں ساتھ ہوں تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔

یہ صرف ایک کرکٹر کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ماں کی قربانی، ایک بیٹے کی لگن اور ایک خواب کی تکمیل کی داستان ہے، جو ہر نوجوان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ہمت نہ ہارو، کیونکہ اندھیری رات کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں