حیدرآباد (دکن فائلز) اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ ناکہ بندی ختم کر دے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکے تو ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے، جو ممکنہ طور پر اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔
ایروانی کے مطابق کسی بھی نئے مذاکراتی دور سے قبل امریکہ کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارتی حل کے لیے تیار ہے، تاہم اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو دشمن کے باقی ماندہ اہداف کو بھی تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے موجودہ جنگ بندی کو “نام نہاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل ایک خاموش جنگی صورتحال ہے۔
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت میں توسیع کا اعلان کیا ہے، جو بدھ کو ختم ہونے والی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ شہباز شریف اور عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا، تاکہ ایران کو مذاکرات کے لیے مشترکہ تجویز پیش کرنے کا مزید وقت دیا جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر کہا کہ امریکہ ایران پر حملے اس وقت تک روک رہا ہے جب تک مذاکرات کے لیے پیش رفت نہیں ہو جاتی۔ اس بار جنگ بندی کی مدت کی کوئی واضح حد مقرر نہیں کی گئی، جس سے سفارتی عمل کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس کا ممکنہ دورہ اسلام آباد غیر یقینی کا شکار رہا کیونکہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کی کوئی واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
ایران نے ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناکہ بندی جاری رہنا بمباری کے مترادف ہے اور اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق یہ اقدام دراصل دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔
عالمی سطح پر اس کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر تنازع بڑھتا ہے تو عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر اگرچہ جنگ بندی میں توسیع سے وقتی ریلیف ملا ہے، تاہم بنیادی اختلافات برقرار ہیں، اور خطہ اب بھی کسی بڑے تصادم کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔


