’مودی دہشت گرد‘، کھڑگے کے بیان پر سیاسی طوفان

حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس صدر ملیکار جن کھڑگے کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق متنازعہ بیان نے ملک کی سیاست میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ بیان کے بعد جہاں حکمراں جماعت بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا، وہیں کھڑگے کو وضاحت پیش کرنی پڑی۔

رپورٹس کے مطابق کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی پروگرام کے دوران وزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایسا جملہ کہا جسے “دہشت گرد” سے تعبیر کیا گیا۔ اس بیان کے سامنے آتے ہی سیاسی ماحول گرم ہو گیا اور بی جے پی نے اسے انتہائی قابل اعتراض قرار دیا۔

تنازعہ بڑھنے پر کھڑگے نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق انہوں نے براہِ راست وزیر اعظم کو دہشت گرد نہیں کہا بلکہ یہ کہا کہ حکومت “دباؤ کی سیاست” کر رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسیاں جیسے سی بی آئی، ای ڈی اور انکم ٹیکس محکمہ کا استعمال سیاسی مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کھڑگے کے مطابق وہ اسی طرزِ عمل کو “ٹیررائزنگ” یا “دہشت پھیلانے” سے تعبیر کر رہے تھے۔

بی جے پی نے کھڑگے کے بیان کو “انتہائی توہین آمیز” قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے رجوع کیا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس بیان کو ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی قرار دے کر کھڑگے کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان سے عوامی معافی منگوائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں