امریکی ایٹمی سائنس دان کی خفیہ ویڈیو: ایران کے خلاف جنگی منصوبوں اور کیمیائی ہتھیاروں کی حساس معلومات افشا، بچوں کی ہلاکت کا اعتراف (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) امریکہ میں قومی سلامتی سے متعلق ایک بڑا تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج کے ایٹمی و کیمیائی تحفظ کے شعبہ کے ایک سینئر اہلکار کو حساس معلومات افشا کرنے کے الزام میں عہدہ سے ہٹا کر جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اینڈریو ہگ، جو ایٹمی اور کیمیائی تحفظ کے ذمہ دار ایک اعلیٰ عہدیدار تھے، ایک خفیہ ویڈیو میں ایک نامعلوم شخص (درحقیقت انڈر کور صحافی) کے ساتھ عوامی مقام پر حساس نوعیت کی گفتگو کرتے نظر آئے۔

یہ ویڈیو معروف کارکن جیمز او کیف کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اہلکار نے قومی سلامتی سے متعلق اہم معلومات غیر محتاط انداز میں ظاہر کیں۔

ویڈیو میں اینڈریو ہگ نے اعتراف کیا کہ ان کا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی رکھنے والے افراد ذہنی طور پر مستحکم ہوں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے ممکنہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پالیسی نہ بدلی تو امریکہ انہیں نشانہ بنانے پر غور کر سکتا ہے۔

مزید برآں انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی فضائی حملوں میں ایران میں بچوں کی ہلاکت ہوئی، جسے انہوں نے جنگی نقصان “کولیٹرل ڈیمیج” قرار دیا۔ انہوں نے ایران میں امریکی فضائی حملوں کے دوران بچوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا اور کہا کہ جنگ میں بچے ہمیشہ مرتے ہیں۔

انہوں نے میزائل لانچ سسٹم، خلائی سینسرز اور ایٹمی حملوں کے طریقہ کار سے متعلق بھی حساس معلومات بیان کیں۔

انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر تمام سیکیورٹی مراحل مکمل ہو جائیں تو لانچ آرڈر پر عمل لازمی ہوتا ہے، چاہے پیغام لانے والا کوئی بھی ہو۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں اعصابی گیس “سارین” کی موجودگی اور ایک لیب حادثے میں ایک کیمسٹ کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پینٹاگون کی ترجمان سنتھیا اسمتھ نے تصدیق کی کہ اینڈریو ہگ کو فوری طور پر عہدہ سے ہٹا کر جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے اور واقعہ کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں