ہمایوں کبیر کی پٹائی، بی جے پی ایجنٹ کا الزام: مغربی بنگال انتخابات میں ہنگامہ آرائی

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے میں شدید کشیدگی، تشدد اور سیاسی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمایوں کبیر کی قیادت میں قائم عام جنتا اوناین پارٹی (اے جے یو پی) نے حکمراں ترنمول کانگریس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں تصادم اور ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

مرشد آباد ضلع میں ووٹنگ کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب ہمایوں کبیر شیو نگر گاؤں کے ایک پولنگ بوتھ پر پہنچے۔ وہاں ترنمول کانگریس کے حامیوں نے انہیں گھیر لیا اور “بی جے پی ایجنٹ” قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق کچھ لوگوں نے ان کی پٹائی کردی، جس سے علاقے میں تناؤ دیکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ہمایوں کبیر نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس نے ان کی پارٹی کے 27 امیدواروں کو “خرید لیا” اور مذہبی بنیادوں پر سیاست (ہندو اپیزمنٹ) کے ذریعہ انتخابی ماحول کو متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

اسی دوران مختلف مقامات پر اے جے یو پی اور ترنمول کارکنوں کے درمیان جھڑپوں، پتھراؤ اور حتیٰ کہ دیسی بم حملے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے۔

ہمایوں کبیر، جو پہلے ترنمول کانگریس کے رہنما رہ چکے ہیں، حال ہی میں اپنی نئی پارٹی کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں:

اہم خبر: ہمایوں کبیر اور بی جے پی لیڈروں کے درمیان ایک ہزار کروڑ روپئے کی ڈیل؟ ترنمول کانگریس کا اسٹنگ آپریشن (ویڈیو دیکھیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں