حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ایک مبینہ اسٹنگ ویڈیو جاری کرتے ہوئے ایک ہزار کروڑ روپے کے بڑے مالی سودے کا الزام عائد کیا ہے، جس میں ہمایوں کبیر اور بی جے پی کے سرکردہ رہنماؤں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
ٹی ایم سی کے مطابق اس ویڈیو میں مبینہ طور پر ہمایوں کبیر کو ایک بڑے مالی معاہدے پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 1000 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے، جبکہ اس میں 300 کروڑ روپے ایڈوانس ادائیگی کا بھی ذکر موجود ہے۔ پارٹی نے اس معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹی ایم سی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مبینہ گفتگو میں بی جے پی کے کئی اہم لیڈروں کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ مدن موہن، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما، مغربی بنگال کے بی جے پی لیڈر سبیندو ادھیکاری اور یہاں تک کہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کا بھی ذکر شامل ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
ٹی ایم سی نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ای ڈی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے انتخابی عمل سے قبل ایک بڑی سیاسی سازش قرار دیا ہے۔


