حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اسدالدین اویسی کی قیادت والی پارٹی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے، جہاں پارٹی کے تمام 12 امیدوار اپنی ضمانتیں بھی بچانے میں ناکام رہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجلس نے ہمایوں کبیر کی جماعت کے ساتھ اتحاد کر کے “بہار ماڈل” کے تحت مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ حکمت عملی بنگال میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔
اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ وہ متنازع اسٹنگ آپریشن قرار دیا جا رہا ہے جس میں ہمایوں کبیر کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس انکشاف کے بعد اقلیتی ووٹروں میں شدید ناراضگی پیدا ہوئی۔
اگرچہ مجلس نے بعد میں ہمایوں کبیر سے اتحاد ختم کر لیا، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ووٹرز نے پارٹی کو اسی اتحاد کے تناظر میں دیکھا اور مسترد کر دیا۔
نتیجتاً، بنگال میں اپنی سیاسی موجودگی قائم کرنے کی مجلس کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں اور پارٹی کو ایک بڑا دھچکا برداشت کرنا پڑا۔


