حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی ماحول شدید کشیدہ ہو گیا ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے حکومت سازی کی راہ ہموار کر لی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے نتائج پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی مدد سے انتخابات میں دھاندلی کی اور نتائج کو “چوری” کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بنگال اور آسام میں بی جے پی حقیقی معنوں میں نہیں جیتی بلکہ اداروں کے ذریعے نتائج کو متاثر کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ بی جے پی کی پرانی حکمت عملی ہے، جو پہلے بھی دیگر ریاستوں میں دیکھی جا چکی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد نشستوں پر نتائج کو تبدیل کیا گیا اور اسے “غیر اخلاقی جیت” قرار دیا۔ ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام لگایا کہ کاؤنٹنگ کے دوران مرکزی فورسز، خصوصاً سی آر پی ایف نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں کاؤنٹنگ ہال میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ ان کے مطابق، “میں ایک امیدوار ہوں، پھر بھی مجھے اندر جانے نہیں دیا گیا، یہ جانبداری ہے۔”
ترنمول کانگریس نے بھی الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کئی حلقوں میں واضح نتائج کے باوجود سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر کی گئی۔ انتخابات کے بعد ریاست میں کشیدگی بھی دیکھی گئی، جہاں کچھ مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی کی رہائش گاہ کے باہر نعرے بازی کے بعد مرکزی فورسز تعینات کر دی گئیں۔
بی جے پی کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی نے اپنی جیت کو عوامی اعتماد کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ بنگال کے یہ نتائج نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے، جبکہ انتخابی شفافیت اور اداروں کی غیر جانبداری پر جاری بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔


