آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر: امریکہ اور ایران کے متضاد دعوے، جنگ کے خدشات بڑھ گئے، اسلامی جمہوریہ نے ’جانِ فدا‘ کا اعلان کردیا

حیدرآباد (دکن فائلز) آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کارروائی کے دوران ایرانی کشتیوں کو تباہ کر دیا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ حملے اپاچی اور سی ہاک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کیے گئے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ان کے بحری جہاز محفوظ ہیں۔

ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ امریکی جہازوں نے وارننگ نظر انداز کی، جواب میں میزائل فائر کیے گئے اور امریکی جہاز پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ خطے کی سلامتی خطرے میں ڈال دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خلیجی ممالک اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور سلامتی کونسل میں نئی قرارداد کی تیاری کی جارہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب ایران نے “جانِ فدا” مہم شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں لاکھوں افراد کی شمولیت کا کہا جا رہا ہے، تاہم بین الاقوامی میڈیا نے ان اعداد و شمار پر شکوک ظاہر کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں