حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس کی مقدس فضاؤں میں ایک بار پھر تشویشناک صورتحال جنم لے رہی ہے، جہاں مسجد اقصیٰ کے خطیب اور اسلامی ہائی کمیشن کے سربراہ شیخ عکرمہ صبری نے جاری کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام اور آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیاں محض وقتی اشتعال نہیں بلکہ ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد حرم قدسی کی تاریخی اور مذہبی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
شیخ صبری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ میں بار بار ہونے والے دھاوے، صحنوں میں اسرائیلی جھنڈے لہرانے کی کوششیں اور نئی زمینی حقیقتیں مسلط کرنے کے اقدامات کھلی جارحیت ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں ایک وسیع تر “یہود سازی” منصوبے کے تحت انجام دی جا رہی ہیں، جنہیں اسرائیلی حکومت کے بعض انتہا پسند عناصر کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومتی سطح پر موجود کچھ شخصیات نہ صرف مذہبی منافرت کو ہوا دے رہی ہیں بلکہ مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانے جیسے خطرناک بیانات بھی دے رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انتہا پسند گروہوں کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ پورے خطے کو ایک خطرناک موڑ پر لے جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی ہیں بلکہ مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوجی ریڈیو کی ایک رپورٹ نے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا کہ کنیسٹ کے 13 ارکان نے 15 مئی کو، جو نام نہاد “یوم القدس” کے طور پر منایا جاتا ہے، مسجد اقصیٰ کو آباد کاروں کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے میں یہ بھی شامل ہے کہ اس دن یہودیوں کو مسجد کے احاطے میں داخل ہو کر اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن کنیسٹ امیت ہالیوی نے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں آباد کاروں کے داخلے کی اجازت دیں۔ یہ مطالبہ ان ہیکل تنظیموں کے دیرینہ ایجنڈے کا تسلسل ہے جو مسجد اقصیٰ کو ہفتے کے تمام دنوں میں یہودیوں کے لیے کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ 15 مئی کا دن فلسطینی عوام کے لیے “یومِ نکبہ” کی 78ویں برسی بھی ہے، جو 1948ء کے المناک واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ اس حساس موقع پر ایسے اقدامات صورتحال کو مزید کشیدہ بنانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں ہیکل تنظیموں نے ایک باقاعدہ مہم بھی شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد آباد کاروں کو پولیس کی سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہو کر اسرائیلی پرچم لہرانے کی ترغیب دینا ہے۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقے ایک اشتعال انگیز اور خطرناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
فلسطینی اور مقامی مقدسی قیادت نے ان منصوبوں کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مسجد اقصیٰ میں بھرپور موجودگی یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں کا اصل مقصد مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کر کے اسے مسجد ابراہیمی (الخلیل) کی طرز پر زمانی اور مکانی تقسیم کا شکار بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات اس کے ان دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں جن میں وہ مذہبی آزادی کی ضمانت دینے کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے ہی مقدس مقامات تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
مسجد اقصیٰ میں حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہاں پہلے ہی نمازیوں کے داخلے پر پابندیاں، بار بار چھاپے اور سکیورٹی کے نام پر سخت اقدامات جاری ہیں۔ ان سب کا مقصد، فلسطینی حلقوں کے مطابق، حرم قدسی میں ایک نئی حقیقت مسلط کرنا ہے۔
آخر میں علماء اور مقامی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ خصوصاً جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں بڑی تعداد میں موجودگی اور “رباط” (پہرہ دینا) نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف مسجد کے تقدس کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا کو ایک واضح پیغام بھی دیتا ہے کہ اس کے مذہبی اور تاریخی تشخص کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔


