حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کے بعد ریاست کی سبکدوش ہونے والی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی نے اپنی شکست کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے “جمہوریت کا قتل” اور ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گی اور نہ ہی ان نتائج کو عوامی فیصلہ تسلیم کریں گی۔
کولکاتا میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی پارٹی کو عوام نے نہیں بلکہ سازش کے تحت ہرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ٹی ایم سی کا مقابلہ بی جے پی کم اور الیکشن کمیشن سے زیادہ تھا، جس نے مبینہ طور پر بی جے پی کے حق میں کام کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی عمل اور ووٹوں کی گنتی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی گئیں اور تقریباً 100 نشستوں پر نتائج “لوٹ” لیے گئے۔ ممتا کے مطابق گنتی کے عمل کو جان بوجھ کر سست کیا گیا تاکہ ان کی پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قریب 90 لاکھ ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف کیے گئے، جو ایک سنگین جمہوری خلاف ورزی ہے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ اپنی ذاتی شکست، بشمول بھوانی پور نشست سے ہار، کے باوجود سیاسی میدان نہیں چھوڑیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ بعد از انتخاب تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کمیٹی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے زمینی حقائق کا جائزہ لے گی۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کاؤنٹنگ سینٹر جاتے وقت ان کی گاڑی کو روکا گیا اور ان پر حملے کی کوشش کی گئی، جبکہ مرکزی فورسز، خصوصاً سی آر پی ایف، نے “غنڈوں” جیسا رویہ اختیار کیا۔ ممتا بنرجی نے بتایا کہ اس مشکل وقت میں اپوزیشن اتحاد “انڈیا” کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے ان سے رابطہ کیا اور یکجہتی کا اظہار کیا، جن میں راہل گاندھی، اروند کیجریوال، اکھیلیش یادو و دیگر شامل ہیں۔
دوسری جانب انتخابی نتائج کے مطابق 294 رکنی اسمبلی میں بی جے پی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 207 نشستیں جیت لیں، جو دو تہائی اکثریت سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی پہلی حکومت ہوگی اور تقریباً 15 سال سے جاری ٹی ایم سی کی حکمرانی کا خاتمہ ہے۔ ٹی ایم سی کی نشستیں گھٹ کر تقریباً 80 رہ گئیں، جو ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ راجہ ہاٹ نیو ٹاؤن نشست پر دوبارہ گنتی کے بعد بی جے پی کے امیدوار پیوش کانوڈیا نے محض 309 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی، جس کے بعد پارٹی کی مجموعی نشستیں 206 سے بڑھ کر 207 ہوگئیں۔ ووٹ شیئر کے اعتبار سے بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی، جہاں بی جے پی کا ووٹ فیصد بڑھ کر تقریباً 45 فیصد ہوگیا، جبکہ ٹی ایم سی کا ووٹ شیئر کم ہوکر قریب 41 فیصد رہ گیا۔
ممتا بنرجی نے ان نتائج کو مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ کا “سیاہ دن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی اور قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں گی۔


