حیدرآباد (دکن فائلز) آج کے دور میں جہاں اکثر لوگ جرائم کو دیکھ کر خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں حیدرآباد کے ایک عام مگر غیر معمولی حوصلہ رکھنے والے مسلم آٹو ڈرائیور محمد ظہیر نے ثابت کر دیا کہ سچی انسانیت اور شہری ذمہ داری ابھی زندہ ہے۔ اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک خطرناک ملزم کا مقابلہ کرنے والے اس نوجوان کی جرأت نے پورے شہر کو حیران اور متاثر کر دیا ہے۔
یہ واقعہ 4 مارچ کی علی الصبح بیگم بازار علاقہ میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون منجو اوم لتا اپنی بہو کے ساتھ مارننگ واک پر نکلی تھیں۔ جیسے ہی وہ ہندی مراوڑی ودیالیہ اسکول کے قریب پہنچیں، ڈبیر پورہ کا ایک عادی مجرم اور رؤڈی شیٹر محمد سہیل اچانک ان کے قریب آیا اور ان کے گلے سے سونے کی چین چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران ملزم کی اسکوٹی بے قابو ہو کر گر گئی، لیکن وہ پھر بھی فرار ہونے کی کوشش میں تھا۔
اسی دوران وہاں سے گزرنے والے آٹو ڈرائیور محمد ظہیر کی نظر اس واقعے پر پڑی۔ وہ تقریباً 100 میٹر آگے نکل چکے تھے، مگر جیسے ہی انہیں صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا، انہوں نے لمحہ بھر کی تاخیر کیے بغیر اپنی گاڑی موڑی اور پوری ہمت کے ساتھ ملزم کا پیچھا کیا۔
محمد ظہیر نے نہایت جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آٹو کو ہتھیار بنا کر ملزم کی بائیک کو زور دار ٹکر ماری، جس سے وہ زمین پر گر پڑا۔ ملزم نے خود کو بچانے کے لیے لاٹھی سے حملہ کرنے کی کوشش کی، مگر محمد ظہیر نے خوف کے بجائے بہادری کا راستہ اختیار کیا اور ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہاں تک کہ پولیس کے پہنچنے تک اسے قابو میں رکھا۔
گشت پر موجود پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑا کارنامہ انجام دینے کے بعد محمد ظہیر کسی صلے یا تعریف کے بغیر خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے اس بہادر آٹو ڈرائیور کی شناخت کی گئی۔ پولیس نے آٹو نمبر کی مدد سے انہیں تلاش کیا اور ان کی بے مثال ہمت کو سراہتے ہوئے خصوصی اعزاز سے نوازا۔
وی سی سجنار کمشنر پولیس حیدرآباد نے بنجارہ ہلز میں واقع ٹی جی آئی سی سی سی دفتر میں محمد ظہیر کو تہنیتی سند اور نقد انعام پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ “آج کے دور میں جب لوگ جرائم کو دیکھ کر بھی لاتعلق رہتے ہیں، محمد ظہیر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک مثال قائم کی ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں معاشرے کے رول ماڈل ہیں اور ان میں ایک بہترین ‘پبلک پولیس’ کی جھلک نظر آتی ہے۔”
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم محمد سہیل پر پہلے سے 16 مقدمات درج ہیں، جو اس کی مجرمانہ تاریخ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف محمد ظہیر کی بے خوفی اور انسان دوستی کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ معاشرے میں ایسے ذمہ دار شہری موجود ہوں تو جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے خود بخود پست ہو جاتے ہیں۔
محمد ظہیر کا یہ کارنامہ یقیناً ہر شہری کے لیے ایک پیغام ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل بہادری اور حقیقی شہری فرض ہے۔


