دلخراش اور روح فرسا خبر: اترپردیش میں 14 سالہ مدرسہ کی مسلم طالبہ کے ساتھ درندگی کی انتہا: اغوا، اجتماعی زیادتی اور جبری تبدیلیِ مذہب کی ناپاک کوشش، گودی میڈیا پر سناٹا (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع قنوج سے ایک ایسی دلخراش اور روح فرسا خبر سامنے آئی ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ ایک 14 سالہ مسلم لڑکی، جو مقامی مدرسے کی طالبہ ہے، کو اغوا کر کے نہ صرف وحشیانہ درندگی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اسے زبردستی مذہب تبدیلی کےلئے مجبور کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم “دیپو” اور اس کے ساتھیوں نے لڑکی کو اغوا کیا۔ متاثرہ لڑکی کو ایک ویران جگہ پر لے جایا گیا جہاں اسے زبردستی شراب اور نشہ آور انجکشن دیے گئے۔ بے ہوش کرنے کے بعد ملزمان نے دو دنوں تک اس کے ساتھ مسلسل زیادتی کی۔

اس واقعہ کا سب سے زیادہ پریشان کن پہلو وہ نفسیاتی اور مذہبی تشدد ہے جو زیادتی کے دوران کیا گیا۔ ملزم دیپو نے لڑکی کو ڈرا دھمکا کر اس کی مانگ میں سندور بھرا اور اسے منگل سوتر پہننے پر مجبور کیا۔ یہ تمام عمل ایک “جعلی شادی” کا ڈرامہ رچانے کے لیے کیا گیا تاکہ گھناؤنے جرم پر پردہ ڈالا جا سکے۔ لڑکی کو دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے مزاحمت کی تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔

متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے شکایت درج کرائے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو بازیاب کرایا۔ طبی معائنہ میں زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزم دیپو کے خلاف اغوا، اجتماعی زیادتی اور پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

اس انسانیت سوز واقعہ کے بعد مقامی لوگوں کے علاوہ مسلم تنظیموں نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کی جائے اور درندوں کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے جو معاشرے کے لیے مثال بن سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں