یہودا گلیک کی قیادت میں انتہا پسند آباد کاروں کی مسجد اقصیٰ پر یلغار، بڑے دھاووں کی نئی دھمکیاں

حیدرآباد (دکن فائلز) مقبوضہ بیت المقدس: سابق اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ اور انتہا پسند یہودی رہنما یہود گلک کی قیادت میں درجنوں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں کیں، جبکہ آئندہ دنوں میں مزید بڑے پیمانے پر یلغار کی دھمکیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

القدس گورنری کی رپورٹ کے مطابق آباد کار گروہ سخت اسرائیلی پولیس سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے صحنوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے اور تلمودی رسومات ادا کیں۔ فلسطینی حلقوں نے اسے مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ کارروائیاں ایک منظم مہم کا حصہ ہیں، جس میں متعدد انتہا پسند تنظیمیں اور اسرائیلی سیاست دان شامل ہیں۔ ان گروہوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نام نہاد “یومِ یکجہتی القدس” کے موقع پر 15 مئی کو، جو اس سال جمعہ کے دن پڑ رہا ہے، مسجد اقصیٰ میں بڑے پیمانے پر آباد کاروں کے داخلے کی اجازت دی جائے۔

فلسطینی حکام کے مطابق ہر سال اس موقع پر انتہا پسند آباد کار پرانی بستی میں اشتعال انگیز پرچم مارچ نکالتے ہیں، جس دوران فلسطینی شہریوں پر حملے، نعرے بازی اور تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں۔ رواں سال اس دن کا فلسطینی یومِ نکبہ کے ساتھ موافق ہونا کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض شدت پسند تنظیموں نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتامر بین گیور کا فون نمبر عوام میں تقسیم کرتے ہوئے آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ کو جمعہ کے روز بھی کھولنے کے مطالبات پر اکسایا ہے، تاکہ اسے ایک “عوامی مطالبہ” ظاہر کیا جا سکے۔

اسی دوران ایک انتہا پسند گروہ نے دستخطی مہم بھی شروع کی ہے جس میں مسجد اقصیٰ کے اندر اسرائیلی پرچم لہرانے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی منظم کوشش ہیں۔

القدس گورنری نے اپنے بیان میں کہا کہ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں آباد کاروں کی ممکنہ دراندازی ایک “انتہائی خطرناک پیش رفت” ہوگی، کیونکہ 1967 کے بعد سے جمعہ کے دن عام طور پر ایسے دھاووں کی اجازت نہیں دی جاتی رہی۔ فلسطینی حلقوں نے عالمی برادری اور اسلامی ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قبلۂ اول کی حرمت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں