حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) حماس کے بیرون ملک امور کے سربراہ خالد مشعل نے غزہ کی پٹی میں تحریک کے سربراہ خلیل الحیہ کے صاحبزادے شہید عزام کی تعزیتی تقریب میں شرکت کے دوران کہا کہ شہادت کا مقام ایک عظیم مرتبہ ہے جو صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جن کے دل ایمان، صبر اور اللہ کی رضا پر شاکر ہوں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق خالد مشعل نے خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے، ان کے پوتوں اور آل الحیہ کے دیگر بھائیوں کی شہادت کو ایک عظیم مقام قرار دیتے ہوئے اس بڑی آزمائش پر خلیل الحیہ کے صبر اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اولاد کی جدائی کا دکھ سب سے شدید ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسلسل صدمے کو برداشت کرنا صرف ان مومن دلوں کا کام ہے جو ایمان سے لبریز ہوں، انہوں نے خلیل الحیہ اور ان کی اہلیہ ام اسامہ کے صبر اور ایثار کی بھرپور ستائش کی۔
خالد مشعل نے ام اسامہ کو تعزیتی کلمات میں صبر، ثابت قدمی اور ان کی بقیہ اولاد و خاندان میں برکت کی دعا دیتے ہوئے کہا کہ ایسی عظیم قربانیاں صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو یقین اور ایمان کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوں۔
خالد مشعل نے سنہ 1990ء کی دہائی کے وسط میں اردن کے اندر خلیل الحیہ کے ساتھ اپنی شناسائی کے ابتدائی دور کو یاد کیا جب وہ پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور غزہ سے آئے ہوئے طالب علموں کے ذمہ دار تھے، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے خلیل الحیہ کو ہمیشہ صابر، باایمان اور اعلیٰ اخلاق کا حامل پایا۔
انہوں نے خلیل الحیہ کے بیٹوں عزام، ہمام، حمزہ اور عز الدین کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں اخلاق، جہاد اور بہادری کی مثال قرار دیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی بقیہ اولاد کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ انہوں نے اپنے دل میں خلیل الحیہ کے لیے موجود گہری قدر و منزلت اور اپنے درمیان مضبوط تعلق کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے باہمی محبت کی بقا اور خیر و اطاعت کی راہ پر استقامت کی دعا کی۔
خالد مشعل نے مقامِ شہادت کی عظمت پر زور دیتے ہوئے اسے وہ بلند ترین مرتبہ قرار دیا جس کی تمنا مومنین کرتے ہیں، انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان سب کا خاتمہ شہادت پر کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ روزانہ کی بنیاد پر بہادری اور شجاعت کی نئی داستانیں رقم کر رہا ہے اور محاصرے، درد اور قربانیوں کے باوجود مزاحمت کی اگلی صفوں میں رہنے پر بضد ہے، انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال غزہ، وہاں کے باسیوں اور ان کی تاریخی ثابت قدمی کے حوالے سے ہماری ذمہ داریوں کے احساس کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معرکہ طوفان الاقصیٰ اور اس کے بعد سے اب تک غزہ نے اپنے بیٹوں اور پیاروں کی شکل میں وہ سب کچھ قربان کر دیا جو اس کے پاس سب سے قیمتی تھا، ان کا ماننا ہے کہ یہ قربانیاں صرف امت کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہیں۔
خالد مشعل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غزہ کی ان قربانیوں نے تحریکِ مزاحمت، مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے، فلسطین اور اسیران کے کاز کے حوالے سے ذمہ داریوں کو دوچند کر دیا ہے، انہوں نے امتِ مسلمہ کو ان کی تاریخی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرنے کی پکار دی۔
خالد مشعل نے اس ضرورت پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہر قسم کے تعاون، نصرت اور ثابت قدمی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے یہاں تک کہ اللہ کی مدد اور فتح حاصل ہو جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ بیرونِ ملک مقیم فلسطینیوں کو فلسطین کے اندر موجود اپنے بھائیوں کے تئیں فرائض کی ادائیگی کی توفیق دے کیونکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
خالد مشعل نے اپنے خطاب کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی شفایابی، اسیران کی رہائی اور غزہ، مغربی کنارے اور پورے فلسطین کے لیے امن و سکون کی دعا کی، انہوں نے اللہ رب العزت سے التجا کی کہ وہ قابض اسرائیل اور امت کے دشمنوں کی کمر توڑ دے۔
وہیں غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سربراہ خلیل الحیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قتل و غارت گری، دہشت گردی اور رہنماؤں و ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنا کر مذاکرات میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی قابض اسرائیل کی کوششیں محض ایک سراب ہیں جن کا پورا ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہداء کا پاکیزہ خون فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کے سفر میں ایندھن کی حیثیت رکھتا ہے۔
خلیل الحیہ کے یہ بیانات ان کے صاحبزادے شہید عزام کی تعزیتی تقریب کے دوران خطاب میں سامنے آئے، جو بدھ کی شام غزہ شہر پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے تھے، اس حملے میں ان کے پڑوسی حمزہ الشرباصی اور متعدد دیگر فلسطینی بھی شہید ہوئے جبکہ کئی شہری مختلف نوعیت کے زخموں سے چور ہیں۔
خلیل الحیہ نے اپنے خطاب کا آغاز اپنے بیٹے عزام کی شہادت کے شرف کے تذکرے سے کیا، جن سے قبل ان کے تین بھائی بھی شہادت پا چکے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ مجرمانہ ٹارگٹ کلنگ اس جاری نسل کشی اور منظم سلسلے کا حصہ ہے جس میں فلسطینی عوام اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہداء کو رخصت کرنے کا بہترین طریقہ عزت و وقار کی راہ پر صبر، ثابت قدمی اور صمود ہے تاکہ قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں، انہوں نے یقین دلایا کہ یہ پیہم قربانیاں فلسطینی قوم کو فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کی طرف لے جا رہی ہیں، خواہ بعض لوگوں کو آج یہ ناممکن ہی کیوں نہ لگے۔
خلیل الحیہ نے ٹارگٹ کلنگ کے اس جرم کو مذاکرات کے عمل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی شہادت قابض دشمن کی ان سابقہ کوششوں کا تسلسل ہے جنہوں نے گذشتہ سال 9 ستمبر سنہ 2024ء کو قطر میں مذاکراتی وفد کو نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل آگ اور خون کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے، لیکن مزاحمت اپنے عوام کے نام پر ان کے قومی اہداف کی خاطر مذاکرات کر رہی ہے، رہنماؤں یا ان کے بیٹوں اور خاندانوں کو نشانہ بنانا ایک خطا کار تیر ہے جو اپنے مذموم مقصد تک کبھی نہیں پہنچ سکے گا۔
غزہ میں حماس کے سربراہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلسطینی عوام کے مفادات ہی قیادت کے لیے واحد منزل ہیں، جس میں جائز سیاسی مقاصد کا حصول، استحکام کا قیام اور شہریوں کو ان کی سرزمین اور وطن میں ثابت قدم رکھنا شامل ہے۔
خلیل الحیہ نے صبر کرنے والے فلسطینی عوام کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے گذشتہ دو برسوں کے دوران دوچند ہونے والے درد اور مصائب کا اعتراف کیا، انہوں نے فلسطینیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم آپ میں سے ہیں اور آپ ہی کی طرف ہیں، آپ کی دھڑکن ہماری دھڑکن ہے، آپ کے زخم ہمیں تڑپاتے ہیں اور آپ کے دکھ و امیدیں ہی ہمارا زادِ راہ ہیں، انہوں نے یقین دلایا کہ فتح فلسطینی عوام کا مقدر ہوگی اور یہ تکالیف ہمیشہ باقی نہیں رہیں گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر خلیل الحیہ نے شہداء، زخمیوں، ماؤں اور ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کے گھر تباہ ہوئے یا جن کے فارم ہاؤسز اجاڑ دیے گئے، انہوں نے عہد کیا کہ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی راہ میں دی جانے والی یہ قربانیاں فلسطینی قوم کو ان اہداف کے قریب تر کر رہی ہیں جن کے لیے وہ کئی دہائیوں سے نبرد آزما ہے۔


