حیدرآباد (دکن فائلز) اجمیر درگاہ شریف میں پیش آنے والے ایک عجیب و غریب واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک نوجوان کو درگاہ کی مشہور ’’بڑی دیگ‘‘ میں چھلانگ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد وہاں موجود عملے اور افراد نے نوجوان کو پکڑ کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب درگاہ میں زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اچانک ایک نوجوان مقدس بڑی دیگ کی جانب بڑھا اور اس میں چھلانگ لگا دی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حرکت کے بعد وہاں موجود خادمین اور دیگر افراد مشتعل ہوگئے اور نوجوان کو باہر نکال کر مار پیٹ کی گئی۔
وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان دیگ کے اندر موجود ہے جبکہ ارد گرد موجود لوگ اسے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعد ازاں چند افراد نے اسے گھیر لیا اور اس پر ہاتھ اٹھائے۔ اس دوران موقع پر موجود لوگوں میں شدید غصہ اور افرا تفری دیکھی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق درگاہ کی ’’بڑی دیگ‘‘ ایک مقدس اور تاریخی اہمیت کی حامل دیگ ہے جس میں زائرین کے لیے بڑے پیمانے پر کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ اس مقام کے تقدس کے باعث نوجوان کی حرکت کو نامناسب اور اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نوجوان نے یہ حرکت کس مقصد کے تحت کی۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے اسے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے اور ویڈیو کی بنیاد پر تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض صارفین نے نوجوان کی حرکت کو غلط قرار دیتے ہوئے درگاہ کے تقدس کا احترام کرنے کی بات کی، جبکہ کئی لوگوں نے ہجوم کی جانب سے تشدد کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔


