نریندر مودی نے عالمی جنگی حالات، مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے پیشِ نظر ملک کے عوام سے غیر معمولی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانیوں کو آنے والے دنوں میں بچت، سادگی اور قومی مفاد کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ ملک کو معاشی بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔
حیدرآباد میں منعقدہ ایک عوامی جلسے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے۔ کورونا وبا کے بعد عالمی سپلائی چین پہلے ہی متاثر تھی، اب جنگی تنازعات نے تیل، کھاد، خوردنی اشیا اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا کہ ہندوستان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھنے کیلئے اجتماعی قربانی دینی ہوگی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایک سال تک غیر ضروری سونا خریدنے سے گریز کیا جائے کیونکہ سونے کی بھاری درآمدات ملک کے قیمتی زرمبادلہ پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سونے کی درآمد کم ہوگی تو ملک کی معاشی پوزیشن مضبوط ہوگی۔
انہوں نے بیرونِ ملک غیر ضروری سفر کم کرنے کا بھی مشورہ دیا اور کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں غیر ضروری غیر ملکی دورے ملتوی کرنا قومی مفاد میں ہوگا۔ وزیر اعظم کے مطابق ایندھن، فضائی سفر اور درآمدی اشیا پر انحصار کم کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
نریندر مودی نے کورونا دور میں رائج ہونے والے ’’ورک فرام ہوم‘‘ کلچر کو دوبارہ اپنانے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن میٹنگز، ویڈیو کانفرنسنگ اور گھروں سے کام کرنے کے نظام نے کورونا کے دوران ملک کو سہارا دیا تھا اور اب ایک بار پھر انہی طریقوں کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر بڑی کمپنیاں، آئی ٹی ادارے اور دفاتر جزوی طور پر ورک فرام ہوم نظام نافذ کریں تو روزانہ لاکھوں لیٹر ایندھن کی بچت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو میٹرو ریل، کار پولنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی ترغیب بھی دی۔
مودی نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول، ڈیزل اور گیس صرف ضرورت کے مطابق استعمال کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی جنگی بحران کا براہِ راست اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل مختلف ممالک سے رابطے میں ہے تاکہ تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو، مگر طویل مدت میں ہندوستان کو ایندھن کے متبادل ذرائع اختیار کرنے ہوں گے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں، سی این جی نظام، سولر انرجی اور ایتھنول بلینڈنگ کو تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ خوردنی تیل اور کیمیکل کھادوں کے استعمال میں بھی کمی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قدرتی کھیتی اور ’’سوَدیشی‘‘ مصنوعات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف زرمبادلہ بچے گا بلکہ ہندوستان خود کفیل بھی بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں یوریا کی ایک بوری تین ہزار روپے سے زائد میں فروخت ہو رہی ہے، لیکن ہندوستانی حکومت سبسڈی کے ذریعے کسانوں کو تین سو روپے سے بھی کم قیمت پر یوریا فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات نے عالمی تجارت اور سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں میں کشیدگی کے باعث تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت ہر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو مشکلات سے بچانے کیلئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان نے اس مشکل وقت میں بھی اپنی سفارتی حکمت عملی اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو مضبوط بنایا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملک کو ایندھن کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حیدرآباد کے دورے کے دوران وزیر اعظم نے تقریباً 9400 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ ان منصوبوں میں قومی شاہراہوں کی توسیع، ظہیرآباد انڈسٹریل کوریڈور، کاکتیہ میگا ٹیکسٹائل پارک، ریلوے پروجیکٹس اور پیٹرولیم ٹرمینل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبرآباد ملک کا اہم روزگار مرکز بن چکا ہے اور تلنگانہ مستقبل میں ٹیکنالوجی، الیکٹرک وہیکلز اور ٹیکسٹائل صنعت میں اہم کردار ادا کرے گا۔


