حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے ناسک میں پیش آئے مبینہ ٹی سی ایس مذہبی تبدیلی اور ہراسانی کیس پر سیاسی گرما گرمی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے الزام عائد کیا ہے کہ ندا خان کے خلاف میڈیا ٹرائل چلایا جا رہا ہے اور بغیر عدالتی فیصلے کے انہیں مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
اورنگ آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ انہیں عدالتی نظام پر مکمل بھروسہ ہے اور عدالت میں ندا خان بے قصور ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور بعض سیاسی جماعتیں “جج اور جیوری” کا کردار ادا کر رہی ہیں، جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
اویسی نے کہا کہ ٹاٹا کنسلٹنسی سرویسز کی جانب سے یہ وضاحت دی جا چکی ہے کہ ندا خان ایچ آر ڈپارٹمنٹ سے وابستہ نہیں تھیں، اس کے باوجود ان کا نام ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے ہی منظر عام پر لایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کسی خاتون کے برقع پہننے یا گھر میں مذہبی کتاب رکھنے کو جرم کیوں بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سرویسزکے بی پی او یونٹ میں بعض خواتین ملازمین نے جنسی ہراسانی، مذہبی دباؤ اور مبینہ تبدیلی مذہب سے متعلق شکایات درج کرائی تھیں۔ اس معاملے میں کئی ایف آئی آر درج کی گئیں اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) بھی تشکیل دی ہے۔
ندا خان، جو اس کیس کی اہم ملزمہ سمجھی جا رہی ہیں، کو حال ہی میں اورنگ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ کافی عرصے سے مفرور تھیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد بعض بی جے پی اور شیوسینا رہنماؤں نے اس معاملے میں مجلس اتحاد المسلمین کے ممکنہ روابط کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اویسی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم ماحول بنایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے خوف اور نفرت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔


