حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت نے انٹرمیڈیٹ تعلیم کو اسکولی نظام میں ضم کرنے کے منصوبہ کو فی الحال مؤخر کرتے ہوئے طلبا اور والدین کو بڑی راحت دی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے واضح ہدایت دی ہے کہ رواں تعلیمی سال میں انٹرمیڈیٹ داخلے حسبِ سابق جاری رکھے جائیں تاکہ طلبا کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ریاستی حکومت گزشتہ کچھ عرصہ سے انٹرمیڈیٹ نظام کو ختم کرکے سی بی ایس ای طرز پر گیارہویں اور بارہویں جماعت کو براہِ راست اسکولی تعلیم میں شامل کرنے پر غور کر رہی تھی۔ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ موجودہ علیحدہ انٹرمیڈیٹ نظام کی وجہ سے دسویں جماعت کے بعد ہزاروں طلبہ تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، خاص طور پر سرکاری اسکولوں کے طلبہ الگ کالجوں میں داخلہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔
اسی پس منظر میں حکومت نے انٹرمیڈیٹ کو اسکول ایجوکیشن میں ضم کرنے کی تجویز پر کام شروع کیا تھا، مگر اس دوران تکنیکی اور انتظامی مسائل سامنے آئے۔ حالیہ دنوں میں داخلوں کی معطلی کی خبروں کے بعد طلبہ اور والدین میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا، جس میں ریاستی حکام اور محکمہ تعلیم کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ نئے تعلیمی سال کے آغاز میں زیادہ وقت باقی نہیں ہے، اس لیے انٹرمیڈیٹ کے انضمام کے عمل کو وقتی طور پر ملتوی کیا جائے اور موجودہ نظام کے مطابق ہی داخلے شروع کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے حکام کو فوری طور پر داخلہ عمل شروع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تعلیمی اصلاح کے سبب طلبہ کا مستقبل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں 11ویں اور 12ویں جماعتیں اسکولی تعلیم کا حصہ ہیں، جبکہ تلنگانہ اب بھی پرانے انٹرمیڈیٹ نظام پر عمل کر رہا ہے۔ کمیشن کے مطابق اگر انٹرمیڈیٹ کو اسکول ایجوکیشن میں ضم کیا جائے تو ڈراپ آؤٹ کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی ہے اور طلبہ کو مسلسل تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اس معاملہ پر مزید وسیع مشاورت کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور متعلقہ فریقین کی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انٹرمیڈیٹ نظام کے مستقبل سے متعلق آخری فیصلہ ریاستی اسمبلی میں بحث کے بعد کیا جائے گا۔
فی الحال حکومت کے اس اعلان کے بعد طلبہ اور والدین نے راحت کی سانس لی ہے اور اب وہ معمول کے مطابق اپنی پسند کے جونیئر کالجوں میں داخلہ لے سکیں گے۔


