’حجاب اتارنے یا نوکری چھوڑنے‘ کا الٹی میٹم! وارانسی میں مسلم ٹیچر کے ساتھ مبینہ مذہبی امتیاز، مسلم خواتین و طالبات نے کیا شدید تشویش کا اظہار، ملک بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ

حیدرآباد (دکن فائلز) مسلم مرر کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے شہر وارانسی سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ملک میں مذہبی آزادی، خواتین کے احترام اور تعلیمی اداروں میں مساوی حقوق سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسلم خاتون ٹیچر سمرین بانو نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں صرف حجاب پہننے کی وجہ سے نہ صرف ملازمت کے دوران امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایک اسکول نے پہلے ہی دن انہیں “حجاب اتارنے یا نوکری چھوڑنے” کا الٹی میٹم دے دیا۔

سمرین بانو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایک نئی مسلم خاتون ٹیچر کے لیے پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مختلف اسکولوں میں انٹرویو یا ڈیمو کلاس کے دوران صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بعض والدین اپنے بچوں کو مسلم اساتذہ کے پاس بھیجنے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بچوں کے ذہنوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف خوف اور تعصب بھر دیا جاتا ہے۔ سمرین کے مطابق ایک استاد کا کام محبت، برداشت اور علم دینا ہوتا ہے، لیکن جب ایک بچے کو پہلے ہی کسی مذہب کے خلاف نفرت سکھا دی جائے تو تعلیم کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

سمرین بانو نے کہا کہ وہ ہمیشہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہیں اور کبھی اپنے مذہبی عقائد دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق ایک استاد کی اصل شناخت اس کا کردار، علم اور تربیت ہوتی ہے، نہ کہ اس کا مذہب یا لباس۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ وارانسی کے علاقے لاتھو میں واقع “بدھّا پبلک اسکول” میں ملازمت کے پہلے ہی دن انتظامیہ نے ان سے کہا کہ یا تو حجاب ہٹا دیں یا اسکول چھوڑ دیں۔ سمرین کے مطابق انٹرویو کے دوران اس قسم کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔

انہوں نے اسکول انتظامیہ سے سوال کیا کہ اگر دیگر خواتین اساتذہ سندور اور منگل سوتر پہن سکتی ہیں، جو ان کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کی علامت ہیں، تو پھر ایک مسلم خاتون کو حجاب پہننے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ سمرین کے مطابق اس پر انتظامیہ نے جواب دیا کہ “سب برابر نہیں ہوتے، جہاں مناسب لگے وہاں چلی جاؤ۔”

اس واقعے نے خواتین کے مذہبی لباس، خصوصاً حجاب، کے حوالے سے ایک بار پھر ملک گیر بحث چھیڑ دی ہے۔ بہت سے سماجی و تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کا حق دیتا ہے۔ سمرین بانو نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والا سلوک آئین ہند کے آرٹیکل 19 اور 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حقوق کے خلاف ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے سمرین بانو کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ ایک معلمہ کو اس کے حجاب کی وجہ سے نشانہ بنانا نہ صرف خواتین کے وقار کے خلاف ہے بلکہ تعلیم جیسے مقدس شعبے کی روح کے بھی منافی ہے۔

مسلم خواتین، خاص طور پر طالبات نے کہا کہ اگر اساتذہ کی تقرری مذہب، لباس یا شناخت کی بنیاد پر ہونے لگے تو یہ نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے خطرناک رجحان ثابت ہو سکتا ہے۔ ملک بھر کے مسلمانوں نے اس واقعہ پر شدید برہمی ک اظہار کیا اور کہا کہ اسکولوں کو ایسے ماحول کو فروغ دینا چاہیے جہاں ہر مذہب اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طلبا خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کریں۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2052977446513684490

اپنا تبصرہ بھیجیں