حیدرآباد (دکن فائلز) سی جوزف وجے نے تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے فوری بعد عوامی فلاح و بہبود اور خواتین کے تحفظ سے متعلق کئی اہم فیصلوں کا اعلان کر دیا۔ نئی حکومت کے ابتدائی اقدامات کو ریاست کی سیاست میں “نئے دور” کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ وجے نے اپنی پہلی سرکاری فائلوں پر دستخط کرتے ہوئے گھریلو صارفین کیلئے 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے تحفظ کیلئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے اور منشیات کے خلاف سخت مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
وجے نے حلف برداری کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت شفاف طرزِ حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور عوامی خزانے کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے سابق حکومت کے مالی معاملات پر “وائٹ پیپر” جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا تاکہ عوام کو ریاست کی معاشی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ کیا جا سکے۔
انتخابات کے دوران وجے اور ان کی پارٹی ٹی وی کے نے خواتین کو مرکز میں رکھتے ہوئے کئی فلاحی وعدے کئے تھے۔ ان میں خواتین سربراہانِ خاندان کیلئے ماہانہ 2500 روپے امداد، سالانہ چھ مفت ایل پی جی سلنڈر، سرکاری بسوں میں مفت سفر اور شادی کیلئے آٹھ گرام سونا و ریشمی ساڑی فراہم کرنے جیسی اسکیمیں شامل تھیں۔
خواتین کے تحفظ کیلئے “رانی ویلو ناچیار فورس” کے نام سے خصوصی یونٹ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی، جس میں باڈی کیمروں سے لیس خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ خواتین کے خلاف جرائم کے فوری فیصلوں کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور پبلک ٹرانسپورٹ میں اسمارٹ پینک بٹن نصب کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
وجے نے اپنی حکومت سازی میں تعاون کرنے والی اتحادی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت مرحلہ وار تمام انتخابی وعدے پورے کرے گی اور تمل ناڈو کو ترقی، شفافیت اور سماجی انصاف کی نئی راہ پر گامزن کرے گی۔
تمل ناڈو کی سیاست میں فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے وجے کی یہ شاندار انٹری ریاست کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں ان کی جماعت نے پہلی ہی انتخابی لڑائی میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے حکومت قائم کی ہے۔


