مولانا طارق جمیل نے ایک معصوم بچے سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا! وضاحتی بیان (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ایک بچے سے ہاتھ ملاتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل دیکھنے میں آئے اور کئی افراد نے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اب اس معاملے پر مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے یوسف جمیل نے تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے پورے واقعے کا پس منظر بیان کیا ہے۔

یوسف جمیل نے انسٹاگرام پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ مولانا طارق جمیل کی ایک مختصر ویڈیو وائرل کی جا رہی ہے جس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک بچے سے مصافحہ کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید ہر شخص کا حق ہے اور تنقید ہونی بھی چاہیے، لیکن کسی واقعے پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا مکمل پس منظر اور متعلقہ شخصیت کا نقطۂ نظر بھی سننا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر دیکھا جائے تو مولانا صاحب کو بچے سے ہاتھ ملا لینا چاہیے تھا اور اس میں کوئی قباحت نہیں تھی، لیکن صورتحال کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یوسف جمیل کے مطابق مولانا طارق جمیل ایک عوامی شخصیت ہیں اور روزانہ ہزاروں افراد ان سے ملاقات کرتے، مصافحہ کرتے اور تصاویر بنواتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی انسان کو مسلسل ایک ہی نوعیت کی مصروفیات کا سامنا ہو تو فطری طور پر تھکن اور اکتاہٹ محسوس ہونا غیر معمولی بات نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگ شاید صرف چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص صبح سے شام تک مولانا طارق جمیل کے معمولات کا مشاہدہ کرے تو اسے اندازہ ہوگا کہ وہ مسلسل لوگوں سے ملاقاتوں، بیانات، دینی مصروفیات اور عبادات میں مصروف رہتے ہیں۔

یوسف جمیل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ رمضان المبارک کے دوران پیش آیا تھا۔ ویڈیو ان کے مدرسے کی ہے جہاں ختم قرآن کی تقریب منعقد ہوئی تھی اور مولانا طارق جمیل وہاں بیان کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا بچہ کوئی اجنبی یا باہر کا شخص نہیں تھا بلکہ مدرسے میں زیرِ تعلیم انہی بچوں میں سے ایک تھا، جن سے مولانا کی پہلے بھی متعدد بار ملاقات ہو چکی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس دن مولانا صاحب روزے کی حالت میں تھے، پورا دن عبادات اور معمولات میں مصروف رہے، اس کے باوجود انہوں نے اپنی روزمرہ روٹین کے برعکس رات گئے تک جاگ کر پروگرام میں شرکت کی اور بیان دیا۔ یوسف جمیل کے مطابق عمر، مسلسل مصروفیات اور جسمانی تھکن کے باعث اگر کسی لمحے میں کسی سے فوری توجہ نہ ہو سکی تو اسے انسانی کمزوری کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔

مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے نے تنقید کرنے والوں سے درخواست کی کہ کسی بھی شخصیت پر تنقید کرتے وقت اس کی عمر، خدمات، مرتبے اور سماجی حیثیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دین کی خدمت کرنے والی شخصیات کے لیے معاشرے میں خصوصی احترام موجود ہوتا ہے اور اختلاف یا تنقید کے باوجود شائستگی برقرار رہنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا طارق جمیل ہمیشہ تنقید کو کھلے دل سے قبول کرتے آئے ہیں اور اس معاملے میں بھی وہ کسی کی رائے پر ناراض نہیں۔ تاہم ان کی خواہش ہے کہ لوگ مکمل حقیقت جانے بغیر کسی نتیجے پر نہ پہنچیں۔ یوسف جمیل نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اگر اس کے باوجود لوگ تنقید کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے، لیکن ساتھ ہی ضروری ہے کہ کسی بھی واقعے کو صرف چند لمحوں کی ویڈیو کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل پس منظر کے ساتھ دیکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں