کمال مولا مسجد تنازعہ: مسلم فریق نے اے ایس آئی رپورٹ کو جانبدار قرار دے کر قانونی حیثیت مسترد کردی

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع متنازعہ کمال مولا مسجد کمپلیکس۔بھوج شالہ سے متعلق سماعت کے دوران مسلم فریق نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی تازہ رپورٹ کو سختی سے چیلنج کرتے ہوئے اسے “جانبدار، غیر قانونی اور یکطرفہ” قرار دیا ہے۔ یہ اعتراضات مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں پیش کیے گئے، جہاں اس حساس مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

مسلم فریق کی نمائندگی کرنے والی مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں مسلسل اس مقام کو “بھوج شالہ مندر” قرار دیا، جبکہ تاریخی دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ میں ایسی کوئی قطعی شہادت موجود نہیں جو اسے مندر ثابت کرے۔

وکلا کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں استعمال کی گئی زبان خود اس بات کی دلیل ہے کہ اے ایس آئی نے غیر جانبدار ادارے کے بجائے ایک فریق کے مؤقف کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ مسلم فریق نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سروے کے دوران حاصل شدہ مکمل ویڈیو ریکارڈنگ اور رنگین تصاویر انہیں فراہم نہیں کی گئیں، بلکہ مختصر کلپس دے کر اصل شواہد تک رسائی محدود رکھی گئی۔

عدالت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اے ایس آئی کی رپورٹ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ موجودہ کمال مولا مسجد کسی قدیم مندر کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی تھی۔ مسلم فریق کے مطابق رپورٹ میں دیے گئے نتائج محض قیاسات پر مبنی ہیں اور ان کی کوئی مضبوط قانونی بنیاد نہیں۔

واضح رہے کہ ہندو فریق اس مقام کو ماں سرسوتی کا قدیم مندر قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم فریق اسے صدیوں پرانی تاریخی مسجد مانتا ہے۔ اس معاملے پر عدالت میں طویل عرصے سے قانونی کشمکش جاری ہے، اور حالیہ اے ایس آئی رپورٹ نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عدالت نے تمام اعتراضات ریکارڈ کرتے ہوئے آئندہ سماعت میں تفصیلی جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں