حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے شہر مراد آباد میں ایک بڑے دینی مدرسہ کے خلاف انتظامیہ کی بلڈوزر کارروائی کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے عدالت کے فیصلے اور مبینہ زمین خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مدرسہ “جامعہ عربیہ حیات العلوم” کے ایک بڑے حصے کو منہدم کردیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی مراد آباد ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی نگرانی میں انجام دی گئی، جہاں بھاری پولیس فورس بھی تعینات رہی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ مدرسہ غیرقانونی تعمیرات اور زمین سے متعلق قواعد کی خلاف ورزیوں میں ملوث تھا، جبکہ مقامی افراد اور بعض سماجی تنظیموں نے اس کارروائی کو مسلم اداروں کے خلاف امتیازی رویہ قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مدرسے کی انتظامیہ نے اس اقدام پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور انہیں مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے بھی اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت پر یکطرفہ اقدامات کا الزام عائد کیا ہے۔
اتر پردیش میں حالیہ برسوں کے دوران بلڈوزر کارروائیوں کو لے کر پہلے بھی کئی بار تنازعات پیدا ہوچکے ہیں، اور مرادآباد کا یہ واقعہ ایک بار پھر اسی بحث کو تازہ کررہا ہے۔


