حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں چند دن کی معمولی راحت کے بعد ایک بار پھر شدید گرمی کی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور ماہرین کے مطابق منگل سے ریاست بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ شروع ہوگا جبکہ 18 سے 22 مئی کے درمیان گرمی اپنی شدت کی آخری حدوں کو چھو سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی تلنگانہ کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت 47 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں پارہ 46 ڈگری کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ دارالحکومت حیدرآباد میں بھی شدید گرمی پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جہاں درجہ حرارت 43 ڈگری تک جا سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دو دنوں میں ریاست کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری تک اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کئی اضلاع میں شدید لو چل سکتی ہے اور یہ صورتحال کم از کم دس دن تک برقرار رہ سکتی ہے۔
اگرچہ پیر کے روز بعض اضلاع میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم مجموعی طور پر گرمی کی شدت برقرار رہنے کی توقع ہے۔ اتوار کے دن سلور میں سب سے زیادہ 43.1 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب گڈور منڈل میں ہفتہ کی رات اچانک ژالہ باری اور بارش نے کسانوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ خریداری مراکز میں کھلے آسمان تلے خشک کی جا رہی دھان اور مکئی کی فصلیں بارش سے بھیگ گئیں جس کے باعث کسانوں کو بھاری مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔
متاثرہ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خراب ہونے والی فصلوں کو بھی امدادی قیمت پر خریدا جائے تاکہ انہیں معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق شدید گرمی، اچانک بارش اور ژالہ باری جیسے موسمی تغیرات زرعی شعبے کے لیے مسلسل خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔


