صیہونی درندگی سے انسانیت کی روح کانپ اٹھی! فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی فوج کا منظم جنسی تشدد بے نقاب، نیویارک ٹائمز نے تہلکہ خیز رپورٹ (رپورٹس کی لنکس کے ساتھ تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک تہلکہ خیز رپورٹ نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد کے معاملے کو عالمی سطح پر دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ معروف امریکی صحافی اور دو مرتبہ پلٹزر انعام یافتہ نکولس کرسٹوف کی اس تحقیقی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں فلسطینیوں، حتیٰ کہ بچوں، کے خلاف جنسی تشدد ایک منظم اور وسیع پیمانے پر جاری عمل بن چکا ہے۔

رپورٹ میں مغربی کنارے کے متعدد متاثرین، وکلاء، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سابق قیدیوں کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں۔ نکولس کرسٹوف کے مطابق انہوں نے 14 فلسطینی مرد و خواتین کے بیانات قلم بند کیے، جنہوں نے دورانِ حراست جنسی تشدد، برہنہ تلاشی، عصمت دری کی دھمکیوں اور جسمانی اذیتوں کا سامنا کرنے کی تفصیلات بیان کیں۔

رپورٹ میں فلسطینی صحافی سامی الساعی کی گواہی کو خاص طور پر ہولناک قرار دیا گیا، جنہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی تفتیش کاروں نے انہیں برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور مختلف اوزاروں کے ذریعے ذلت آمیز سلوک کیا تاکہ وہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون پر مجبور ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات نے ان کی ذہنی اور نفسیاتی حالت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

کرسٹوف نے اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق تنظیموں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک “منظم ریاستی طرز عمل” کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی حالیہ مہینوں میں خبردار کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے سے تقریباً 20 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں ہزاروں افراد بغیر واضح الزامات کے زیر حراست ہیں۔ بتایا گیا کہ 2023 سے ریڈ کراس اور وکلاء کی ملاقاتوں پر بھی وسیع پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے باعث قیدیوں کی صورتحال مزید مخفی ہو گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم “سیو دی چلڈرن” کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی حراست سے رہا ہونے والے نصف سے زیادہ فلسطینی بچوں نے یا تو جنسی تشدد کا سامنا کیا یا اس کے واقعات دیکھے۔ اسی طرح “کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس” کے مطابق زیر حراست 29 فیصد فلسطینی صحافی جنسی تشدد یا ہراسانی کا شکار ہوئے۔

نکولس کرسٹوف نے امریکی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں کو فراہم کی جانے والی امریکی امداد واشنگٹن کو بالواسطہ طور پر ان مبینہ مظالم کا شریک بناتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی فوجی امداد کو انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کیا جائے اور ریڈ کراس کو جیلوں تک فوری رسائی دی جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “جدید صحافت کی بدترین جھوٹی مہم” قرار دیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اخبار نے اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیز اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا ہے۔

ادھر فلسطینی حلقوں، انسانی حقوق تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ نے ایک ایسے حساس مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جس پر طویل عرصے سے خاموشی اختیار کی جا رہی تھی۔ مبصرین کے مطابق غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو پہلے ہی عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے اور اب یہ رپورٹ مزید سفارتی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

اس خبر سے متعلق رپورٹس کی لنکس :
https://www.nytimes.com/video/opinion/100000010886586/the-horror-of-sexual-assault-in-israeli-prisons.html

https://www.aljazeera.com/video/newsfeed/2026/5/8/sexual-violence-against-palestinians-in-israeli-prisons-is

اپنا تبصرہ بھیجیں