حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی حکومت نے سالانہ 10 لاکھ روپے سے زائد قابلِ ٹیکس آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے گھریلو ایل پی جی گیس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ مزید سختی سے نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔ آئل کمپنیوں کی جانب سے ایسے صارفین کو انتباہی پیغامات بھیجے جا رہے ہیں جن میں سبسڈی بند کیے جانے یا وضاحت طلب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اگر کسی صارف یا اس کے شریکِ حیات کی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی 10 لاکھ روپے سے زیادہ ہے تو وہ حکومتی سبسڈی کے اہل نہیں رہیں گے۔ ایسے صارفین کو مقررہ مدت کے اندر اپنی آمدنی کی تفصیلات کی تصدیق کرنی ہوگی، بصورت دیگر ان کی سبسڈی مستقل طور پر بند کی جا سکتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سبسڈی کے نظام کو شفاف بنانا اور اس کا فائدہ صرف مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں تک محدود رکھنا ہے۔ اس سے سرکاری خزانے پر پڑنے والا اضافی بوجھ کم ہوگا اور وسائل حقیقی ضرورت مندوں، خصوصاً پردھان منتری اجولا یوجنا کے مستفیدین، تک بہتر طریقے سے پہنچ سکیں گے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے موبائل پر موصول ہونے والے سرکاری پیغامات کو نظرانداز نہ کریں اور اگر تصدیق مطلوب ہو تو مقررہ وقت میں جواب دیں۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے لاکھوں متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے شہری متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ حکومت اسے “فلاحی اسکیموں کو ہدفی اور مؤثر بنانے” کی سمت ایک ضروری قدم قرار دے رہی ہے۔


