حیدرآباد: (دکن فائلز) ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹرنس امتحان NEET UG 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ راجستھان پولیس کی اسپیشل آپریشن گروپ نے تحقیقات کے دوران انکشاف کیا ہے کہ امتحان سے قبل گردش کرنے والے ایک مبینہ “گس پیپر” کے تقریباً 140 سوالات اصل NEET سوالیہ پرچے سے نہ صرف مماثلت رکھتے تھے بلکہ ان کے جوابات کی ترتیب بھی اصل امتحانی پرچے جیسی ہی پائی گئی۔ اس انکشاف کے بعد ملک بھر میں ہلچل مچ گئی ہے اور امتحانی نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق مجموعی طور پر 720 نمبرات کے امتحان میں ان 140 سوالات کی مالیت تقریباً 600 نمبرات بنتی ہے، جس کی وجہ سے معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ یہ مبینہ سوالیہ مواد یکم مئی کو راجستھان کے ضلع سِیکار میں گردش کررہا تھا، جہاں بعض طلبہ نے اسے 20 ہزار سے لے کر 2 لاکھ روپے تک کی قیمت میں خریدا۔ حکام کا کہنا ہے کہ امتحان کے دن رات تک اس کی ایک ایک کاپی تقریباً 30 ہزار روپے میں فروخت کی گئی۔
پولیس کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ واقعی لیک شدہ سوالیہ پرچہ تھا یا پھر کوچنگ اداروں کی جانب سے تیار کردہ ایسا پریکٹس میٹریل جس نے اتفاقاً اصل پرچے سے مماثلت اختیار کرلی۔ تاہم تحقیقات میں شامل افسران کا کہنا ہے کہ یہ مواد ایک منظم کوچنگ ٹیسٹ سیریز جیسا محسوس ہورہا ہے اور اس کے پیچھے کسی بڑے منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
ذرائع کے مطابق کیرالا سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے یہ مواد سِیکار سے خریدا تھا، جس کے بعد چند گھنٹوں میں ہی یہ میٹریل کیرالا کے مختلف کوچنگ نیٹ ورکس، پی جی ہاسٹلز، کیریئر کاؤنسلرز اور NEET امیدواروں کے درمیان پھیل گیا۔ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک پی جی آپریٹر نے امتحان کے بعد پولیس اور نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی (NTA) سے شکایت درج کروائی۔
تحقیقات کے سلسلے میں راجستھان اور اتراکھنڈ کے مختلف شہروں میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اب تک سِیکار اور دہرادون سے 13 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جن سے مسلسل پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو کوچنگ نیٹ ورکس سے وابستہ بتائے جارہے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 3 مئی 2026 کو منعقدہ NEET UG امتحان میں ہندوستان اور بیرون ملک سے مجموعی طور پر 22.79 لاکھ سے زائد امیدوار شریک ہوئے تھے، جن میں تقریباً 13.32 لاکھ خواتین اور 9.46 لاکھ مرد امیدوار شامل تھے۔ امتحان ایک ہی شفٹ میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد کیا گیا تھا۔
دریں اثنا نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ NEET امتحان مکمل سکیورٹی پروٹوکول کے تحت منعقد کیا گیا۔ این ٹی اے کے مطابق سوالیہ پرچوں پر واٹر مارک شناختی نشانات موجود تھے جبکہ ان کی ترسیل GPS سے لیس گاڑیوں کے ذریعے کی گئی۔ ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ امتحانی مراکز میں AI سے لیس CCTV نگرانی، بایومیٹرک تصدیق اور 5G سگنل جیمرز سمیت سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔
این ٹی اے کے مطابق امتحان کے چار دن بعد یعنی 7 مئی کی رات پہلی مرتبہ مبینہ لیک سے متعلق اطلاع موصول ہوئی، جسے 8 مئی کی صبح فوری طور پر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے حوالے کردیا گیا۔ ایجنسی نے کہا کہ معاملہ ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور مکمل جانچ کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 2024 میں بھی NEET UG امتحان پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی زد میں آیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے۔ اس وقت معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا، تاہم عدالت عظمیٰ نے یہ کہتے ہوئے پورا امتحان منسوخ کرنے سے انکار کردیا تھا کہ وسیع پیمانے پر نظامی دھاندلی کے ناقابل تردید شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس کے باوجود NTA کے زیر اہتمام قومی سطح کے امتحانات کی شفافیت پر سوالات مسلسل برقرار ہیں۔


