حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک سرکاری اسکول میں صبح کی اسمبلی کے دوران علامہ اقبال کی دعا پر مشتمل مشہور اردو نظم ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ پڑھائے جانے پر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہندوتوا طاقتیں تلملا اٹھیں اور غیرضروری اعتراض جتایا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اسکول کے تین ٹیچرس کو معطل کر دیا جبکہ دو مسلم اساتذہ کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اردو زبان، مذہبی شناخت اور تعلیمی اداروں میں ثقافتی اظہار کے معاملے پر سیاسی و سماجی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ معاملہ سنبھل ضلع کے جالب سرائے علاقے میں واقع پی ایم شری سرکاری اسکول کا ہے، جہاں صبح کی اسمبلی میں طلبہ علامہ محمد اقبال کی مشہور دعا پڑھتے دکھائی دیے۔ ویڈیو میں بچے یہ اشعار دہرا رہے تھے:
’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری، زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری۔‘‘
یہ نظم برصغیر کے کئی تعلیمی اداروں میں دہائیوں سے پڑھی جاتی رہی ہے اور اسے اخلاقی تربیت، علم دوستی اور انسانیت کی خدمت کا پیغام قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بعض دائیں بازو کی تنظیموں نے اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سرکاری اسکول میں مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اسکول کے ہیڈ ماسٹر انظار احمد، اسسٹنٹ ٹیچر محمد گل اعجاز اور قائم مقام پرنسپل بالیش کمار کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ مسلم اساتذہ نے ہندو طلبہ کو ٹوپی پہننے اور طالبات کو حجاب استعمال کرنے کی ترغیب دی جبکہ اسمبلی میں منظور شدہ سرکاری دعا سے پہلے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ پڑھوائی جاتی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ فروری سے اسکول میں بعض مذہبی سرگرمیوں کے فروغ اور دیگر مذاہب کے خلاف مبینہ نامناسب تبصروں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ضلع مجسٹریٹ انکیت کھنڈیلوال نے تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 353(2) اور 61(2) کے تحت ایف آئی آر درج کر لی۔
ضلع انتظامیہ نے چیف ڈیولپمنٹ آفیسر کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو پورے معاملے کی تفصیلی جانچ کرے گی اور یہ معلوم کرے گی کہ آیا واقعی اسکول میں کسی مخصوص مذہبی سرگرمی کو فروغ دیا جا رہا تھا یا نہیں۔
دوسری جانب اس کارروائی پر مسلم تنظیموں، اردو ادیبوں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے افراد نے شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال کی یہ دعا ہمیشہ سے اخلاقی اور ادبی حیثیت رکھتی ہے اور اسے مذہبی تعلیم کے طور پر پیش کرنا اردو زبان کے خلاف تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک مقامی اردو استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ دعا انسان کو اچھا شہری اور معاشرے کے لیے مفید فرد بننے کا درس دیتی ہے۔ ان کے مطابق کئی نسلوں نے اسے بغیر کسی تنازع کے پڑھا، مگر اب اردو زبان کو مشکوک نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔
بعض شہریوں نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر اسکولوں میں سنسکرت دعائیں اور حب الوطنی کے گیت قبول کیے جاتے ہیں تو اردو شاعری کو صرف مذہبی عینک سے کیوں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی تہذیب ہمیشہ مختلف زبانوں اور ثقافتوں کا مجموعہ رہی ہے۔
تعلیم سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا کہ اسکولوں کو سیاسی اور مذہبی تنازعات کا میدان نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بچوں اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے دباؤ اور سیاسی کشمکش کا شکار بنانا تعلیمی ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔
تاہم بعض ہندو تنظیموں نے انتظامیہ کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں صرف منظور شدہ ضابطوں کے مطابق ہی اسمبلی ہونی چاہیے اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کیا جانا چاہیے جس سے مذہبی ابہام پیدا ہو۔
یہ معاملہ اب صرف ایک اسکول تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے ملک میں اردو زبان، مسلم ثقافتی شناخت اور سرکاری اداروں میں مذہبی غیرجانبداری کے موضوع پر نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ فی الحال سب کی نظریں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا معطلی اور ایف آئی آر برقرار رہتی ہے یا تحقیقات اس معاملے کی کوئی مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔


