بھوج شالہ فیصلہ مسلمانوں کے خدشات کو سچ ثابت کرتا ہے: جمعیۃ علماء ہند کا سخت ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیۃ علماء ہند نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے بھوج شالہ۔کمال مولیٰ مسجد معاملہ میں دیے گئے فیصلے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کے مسلمانوں کے خدشات کو درست ثابت کرتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے قائدین نے اپنے ردعمل میں کہا کہ عدالت کا فیصلہ نہ صرف مذہبی تنازعات کو مزید پیچیدہ بنائے گا بلکہ اس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔ تنظیم کے مطابق عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق قانون کی روح کو کمزور کرنے والی کسی بھی پیش رفت سے آئینی اقدار متاثر ہوں گی۔

تنظیم نے کہا کہ مسلمانوں کو پہلے ہی اس بات کا خدشہ تھا کہ تاریخی مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات میں ایک خاص سمت اختیار کی جا رہی ہے، اور بھوج شالہ معاملہ کا حالیہ فیصلہ انہی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند نے واضح کیا کہ وہ قانونی راستہ اختیار کرے گی اور سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کرنے والے مسلم فریق کی حمایت کی جائے گی۔ تنظیم نے زور دے کر کہا کہ ملک کے آئین، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک کو اس وقت بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی بحران اور معاشی مسائل جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود مذہبی تنازعات کو مسلسل نمایاں کیا جا رہا ہے۔ تنظیم نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اور اشتعال انگیزی سے دور رہنے کی اپیل کی۔

یاد رہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں بھوج شالہ کمپلیکس کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کی جمعہ کی نماز سے متعلق 2003 کا انتظامی حکم منسوخ کر دیا-

اپنا تبصرہ بھیجیں