حیدرآباد (دکن فائلز) امیت شاہ کی جانب سے ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں استعمال کیے گئے لفظ “Jihadi Drug” پر مسلم حلقوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے شدید اعتراض سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈرگس جیسے جرائم کو “جہاد” جیسے مقدس اسلامی لفظ سے جوڑنا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ اس سے مذہبی جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ حکومتِ ہند “آپریشن ریج پِل” کے تحت پہلی بار “کیپٹاگون” نامی منشیات کی بڑی کھیپ ضبط کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جس کی مالیت تقریباً 182 کروڑ روپے بتائی گئی۔ انہوں نے اس منشیات کو “Jihadi Drug” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
تاہم اس بیان کے بعد کئی مسلم دانشوروں، علما اور سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں منشیات مکمل طور پر حرام ہیں، لہٰذا ڈرگس کو “جہاد” سے جوڑنا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔
اسلامی ماہرین کے مطابق “جہاد” عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ “جدوجہد” یا “کوشش” کے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جہاد کا اصل مفہوم برائی، ظلم، ناانصافی اور نفس کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاد کو انسانیت، امن، عدل اور اخلاقی اصلاح کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ جرائم یا منشیات کے ساتھ۔
علما کا کہنا ہے کہ اسلام میں شراب، منشیات اور ہر نشہ آور چیز واضح طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔ پیغمبر اسلام محمدﷺ کی متعدد احادیث میں نشہ آور اشیا سے سختی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ایسے میں “جہادی ڈرگ” جیسی اصطلاح استعمال کرنا نہ صرف غلط فہمی پیدا کرتا ہے بلکہ ایک مذہبی اصطلاح کو منفی انداز میں پیش کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی جرائم پیشہ گروہ کا تعلق کسی مخصوص مذہب سے ہو تو کیا پورے مذہب کی مقدس اصطلاحات کو اس جرم سے جوڑ دینا درست ہوگا؟ ناقدین نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے تاکہ کسی مذہب یا طبقہ کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
دوسری جانب بعض حلقوں نے امیت شاہ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا میں “کیپٹاگون” کو بعض دہشت گرد گروہوں سے جوڑ کر دیکھا جاتا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود “جہاد” جیسی مذہبی اصطلاح کا استعمال قابل اعتراض ہے۔


