حیدرآباد (دکن فائلز) دنیا کے کئی ممالک اس وقت ایک نئے بحران یعنی کم ہوتی شرحِ پیدائش اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی سے پریشان ہیں۔ اسی سلسلے میں اب آندھراپردیش کی حکومت نے بھی زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے کہا ہے کہ تیسرے بچے پر 30 ہزار اور چوتھے بچے پر 40 ہزار روپے دیے جائیں گے تاکہ آبادی میں کمی کے رجحان کو روکا جا سکے۔
چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ جنوبی ریاستوں میں شرحِ پیدائش خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں افرادی قوت کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بچوں کو بوجھ کے بجائے “ملک کی طاقت” سمجھا جائے۔ ماہرین کے مطابق صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک اس وقت آبادی میں کمی کے مسئلہ سے دوچار ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا، اٹلی، ہنگری اور بعض یورپی ممالک پہلے ہی زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو مالی سہولتیں، ٹیکس میں رعایتیں، رہائش اور خصوصی الاؤنس فراہم کر رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو شادی اور بچوں کی طرف راغب کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں حکومت بچوں کی پیدائش بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر چکی ہے، جبکہ جاپان میں کم ہوتی آبادی اور بڑھتے بزرگ شہریوں نے حکومت کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کئی یورپی ممالک میں بھی حکومتیں والدین کو ماہانہ مالی مدد، مفت تعلیم اور بچوں کی دیکھ بھال کی سہولتیں دے رہی ہیں۔ سیاسی اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش حکومت کا یہ قدم ہندوستان میں بدلتی آبادیاتی سوچ کی علامت ہے۔ ایک وقت تھا جب زیادہ آبادی کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب بعض ریاستیں کم ہوتی نوجوان آبادی کو مستقبل کے لیے خطرہ تصور کر رہی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی جاری رہی تو آنے والے برسوں میں معیشت، صنعت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اسی لیے دنیا کے مختلف ممالک اب آبادی بڑھانے کی نئی پالیسیاں اپنا رہے ہیں۔


