حیدرآباد (دکن فائلز) فلسطینی عوام نے اس سال “یومِ نکبہ” کی 78ویں برسی ایک ایسے دلدوز ماحول میں منائی ہے جہاں غزہ کی پٹی مسلسل جنگ، نسل کشی، بھوک، تباہی اور جبری ہجرت کے اندوہناک مناظر سے گزر رہی ہے۔ سنہ 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا المیہ آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے، اور فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ “نکبہ ختم نہیں ہوا، بلکہ ہر روز ایک نئی شکل میں دہرایا جا رہا ہے۔”
ہر سال 15 مئی کو فلسطینی عوام “یومِ نکبہ” مناتے ہیں۔ یہ وہ سیاہ دن تھا جب سنہ 1948 میں قابض اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں، دیہاتوں اور شہروں سے زبردستی بے دخل کر دیا گیا تھا۔ اس سال کی تقریبات کا عنوان رکھا گیا: **“ہم نہیں جائیں گے… ہماری جڑیں تمہاری تباہی سے کہیں زیادہ گہری ہیں”۔**
فلسطینی علاقوں، پناہ گزین کیمپوں اور دنیا بھر میں مقیم فلسطینیوں نے اس موقع پر مارچ، ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے۔ رام اللہ سمیت مختلف شہروں میں فلسطینی پرچم، سیاہ جھنڈے اور “حقِ واپسی” کی علامتی چابیاں اٹھائے مظاہرین نے اپنے وطن سے وابستگی کا اظہار کیا۔
غزہ میں نکبہ اب تاریخ نہیں، زندہ حقیقت بن چکا ہے
فلسطینی حلقوں کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ نے سنہ 1948 کے نکبہ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ اب جبری ہجرت محض پرانی داستان نہیں رہی بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کی روزمرہ کی تلخ حقیقت بن چکی ہے۔
غزہ میں لوگ بار بار نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ خاندان اپنے گھروں، گلیوں اور بستیوں کو چھوڑ کر خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ بمباری، قحط، بیماری اور تباہی نے پوری پٹی کو انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔
فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات کے مطابق سنہ 1948 میں صہیونی جتھوں نے 774 فلسطینی دیہات اور شہروں پر قبضہ کیا، جن میں سے 531 کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا، جبکہ 70 سے زائد بڑے قتل عام میں 15 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
غزہ کی آبادی میں تاریخی کمی، لاکھوں افراد بے گھر
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے بعد غزہ کی آبادی میں تقریباً 2 لاکھ 54 ہزار افراد کی کمی واقع ہوئی ہے، جو مجموعی آبادی کا تقریباً 10.6 فیصد بنتی ہے۔ اس وقت غزہ کی آبادی تقریباً 21.3 لاکھ رہ گئی ہے۔
فلسطینی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ جنگ، مسلسل بمباری، نسل کشی، بھوک اور جبری ہجرت نے اس آبادیاتی بحران کو جنم دیا ہے۔ غزہ میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور شہری ڈھانچے کا بڑا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
“اب انسانوں سے زیادہ بستیوں کو مٹایا جا رہا ہے”
رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ میں اب صرف انسان ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے رہائشی محلے، سکول، یونیورسٹیاں، اسپتال اور بنیادی سہولیات بھی مٹا دی گئی ہیں۔ فلسطینی حلقوں کے مطابق یہ صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ فلسطینی وجود، تہذیب اور شناخت کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
غزہ میں بجلی، پانی، خوراک، علاج اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات بھی ناپید ہو چکی ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کے لیے خوراک ڈھونڈنے میں سرگرداں ہیں، مریض ادویات سے محروم ہیں، جبکہ بچے تباہ شدہ عمارتوں اور پناہ گزین مراکز میں تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
“زندگی باقی رکھنا بھی مزاحمت ہے”
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں آج صرف ہتھیار اٹھانا ہی مزاحمت نہیں بلکہ اس تباہی کے باوجود اپنی زمین پر باقی رہنا، اپنے بچوں کو زندہ رکھنا اور زندگی کی معمولی رمق کو برقرار رکھنا بھی ایک عظیم مزاحمت بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاکھوں فلسطینی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نہ مناسب غذا ہے، نہ صاف پانی اور نہ ہی تحفظ کا کوئی احساس۔ مسلسل انخلاء کے احکامات اور بمباری نے لوگوں کو ایک مستقل نفسیاتی عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔
“فلسطینی وجود کو مٹانے کی منظم سیاست”
نامور فلسطینی تجزیہ کار ڈاکٹر امیرہ النحال نے کہا کہ غزہ میں جاری صورتحال محض جنگ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی منظم اور خطرناک پالیسی ہے۔ ان کے مطابق پانی، بجلی، غذا، اسپتالوں، یونیورسٹیوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ فلسطینی معاشرے کی اجتماعی بقا کو ختم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام آج ایک ایسے جدید نکبہ کا سامنا کر رہے ہیں جو پہلے سے کہیں زیادہ خونریز، تباہ کن اور ہولناک ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی اس انسانی المیے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
“حقِ واپسی کا خواب آج بھی زندہ ہے”
تمام تر تباہی، نسل کشی، بے گھری اور مسلسل جنگ کے باوجود فلسطینی عوام آج بھی اپنے حقِ واپسی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ 78 برس گزرنے کے باوجود ان کے اجڑے ہوئے دیہاتوں، گھروں اور مسجدوں کی یاد آج بھی ان کے دلوں میں زندہ ہے، اور یہی یاد ان کی مزاحمت اور بقا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔


