’فلسطین آج بھی خون میں نہا رہا ہے، غزہ جل رہا ہے، خواتین و معصوم بچوں کی چیخیں، مسجدِ اقصیٰ پکار رہی ہے اور امتِ مسلمہ کی خاموشی: یومِ نکبہ کی برسی پر تحریکِ مسلم شبان کا درد بھرا اجلاس

حیدرآباد (دکن فائلز) تحریکِ مسلم شبان کی جانب سے یومِ نکبہ کے موقع پر ایک اہم اور درد انگیز اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت، غزہ میں نسل کشی، مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور فلسطینی عوام پر ڈھائے جا رہے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں مقررین نے کہا کہ 1948 سے شروع ہونے والا فلسطینیوں کی بے دخلی اور قتل و غارت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور غزہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ بن چکا ہے، جبکہ دنیا فلسطینیوں کے خون پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اجلاس کی صدارت تحریکِ مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 14 مئی 1948 فلسطینی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب لاکھوں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں، گھروں اور بستیوں سے بے دخل کر کے اسرائیل کے ناجائز قیام کی راہ ہموار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان، غیرت اور دینی ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔

مشتاق ملک نے کہا کہ غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں نے ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ہزاروں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ شہید ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال، اسکول، مساجد اور پناہ گزین مراکز تک محفوظ نہیں رہے اور اسرائیلی جارحیت مسلسل جاری ہے۔

انہوں نے عالمِ اسلام سے اپیل کی کہ فلسطینی عوام کی حمایت میں متحد ہو کر آواز بلند کی جائے اور اسرائیل کے خلاف مؤثر سفارتی، سیاسی اور معاشی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق مسجدِ اقصیٰ صرف فلسطینیوں کی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ امانت ہے، اور اس کی آزادی ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام گزشتہ 78 برسوں سے قربانیاں دے رہے ہیں لیکن وہ آج بھی اپنے حقِ واپسی اور آزادی کے مطالبہ پر ثابت قدم ہیں۔ قرارداد میں اقوامِ متحدہ، عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں جاری خونریزی کو فوری طور پر روکا جائے اور فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔

تحریکِ مسلم شبان کے قائدین نے کہا کہ آج فلسطینی عوام بدترین انسانی بحران سے گزر رہے ہیں۔ غزہ میں غذا، پانی، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے، جبکہ اسپتال اور رہائشی علاقے مسلسل بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچوں کی چیخیں اور ماؤں کی آہیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

شبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دنیا کی خاموشی نے اسرائیل کو مزید جارح بنا دیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں مختلف مذہبی، سماجی اور ملی شخصیات نے شرکت کی اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

مقررین نے فلسطین پر جاری اسرائیلی مظالم، غزہ میں نسل کشی، مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور امتِ مسلمہ کی خاموشی پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچوں کی چیخیں، ماؤں کی آہیں اور تباہ حال غزہ انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر فلسطینی شہدا، زخمیوں اور مظلوم عوام کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ فلسطینی عوام کی آزادی اور مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اجلاس میں مقررین نے کہا کہ مسجدِ اقصیٰ صرف فلسطینیوں کی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی امانت ہے، اور اس کی حفاظت ہر مسلمان کا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔ انہوں نے عالمِ اسلام سے اپیل کی کہ فلسطین کے معاملہ پر متحد ہو کر آواز بلند کی جائے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں