پوکسو کیس میں بنڈی سنجے کے بیٹے بندی سائی بھگیرت نے سرینڈر نہیں کیا بلکہ گرفتاری ہوئی، پولیس کی وضاحت: متاثرہ لڑکی اور والدہ کے مجسٹریٹ کے سامنے بیانات ریکارڈ (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں مرکزی وزیر مملکت داخلہ بنڈی سنجے کمار کے بیٹے بندی سائی بھگیرت کے خلاف درج پوکسو کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ معاملہ میں پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جبکہ متاثرہ نابالغ لڑکی اور اس کی والدہ نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروائے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ 17 سالہ لڑکی اپنی والدہ کے ہمراہ میڑچل کورٹ پہنچی، جہاں دونوں کے بیانات ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات کے تحت ریکارڈ کیے گئے۔ لڑکی اس سے قبل بھی دو مرتبہ پولیس کو بیان دے چکی ہے، تاہم اب عدالت میں دیے گئے بیانات کو کیس میں اہم پیش رفت مانا جا رہا ہے۔ والدہ نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کو مبینہ طور پر زبردستی شراب پلائی گئی اور کمزور حالت میں اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا گیا، جس کے بعد سے وہ شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہے۔

شکایت کنندہ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس واٹس ایپ چیٹس، موبائل پیغامات اور دیگر الیکٹرانک شواہد موجود ہیں، جنہیں پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام ان ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک جائزہ بھی لے رہے ہیں تاکہ معاملہ کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔

ادھر سائبر آباد پولیس نے ملزم بندی سائی بھگیرت کے خلاف لوک آؤٹ نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی تلاش تیز کر دی تھی۔ پولیس کی پانچ خصوصی ٹیمیں حیدرآباد، کریم نگر، دہلی اور دیگر مقامات پر مسلسل چھاپہ ماری کر رہی تھیں۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں پولیس کو مبینہ طور پر مرکزی وزیر کی رہائش گاہ کے اطراف کارروائی کرتے دیکھا گیا۔

تاہم اتوار کو معاملہ میں اہم موڑ اس وقت آیا جب بندی سائی بھگیرت پولیس اسٹیشن پہنچا۔ ابتدائی طور پر بی جے پی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس نے “خود سپردگی” کی ہے، لیکن سائبر آباد پولیس کمشنر اویناش موہنتی نے واضح کیا کہ اسے “سرینڈر” نہیں بلکہ باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بھگیرت کو قانونی کارروائی کے تحت حراست میں لیا گیا اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

یہ مقدمہ 8 مئی کو پیٹ بشیر آباد پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ کی شکایت کے مطابق ملزم نے لڑکی کو فارم ہاؤس لے جا کر دو مرتبہ جنسی ہراسانی اور مبینہ استحصال کا نشانہ بنایا۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے پوکسو ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا تھا۔

دوسری جانب تلنگانہ ہائیکورٹ میں دائر عبوری ضمانت کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے معاملہ کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے سماعت ایک ہفتہ کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ متاثرہ لڑکی کے بیانات اور دستیاب شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

سیاسی سطح پر بھی اس کیس نے ہلچل مچا دی ہے۔ K. Kavithaکے کویتا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے بنڈی سنجے کو وزارت داخلہ کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ بی آر ایس اور کانگریس کے کئی رہنماؤں نے بھی معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بی جے پی نے اپوزیشن پر سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں دستیاب تمام شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ، طبی رپورٹس اور متاثرہ فریق کے بیانات کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں