حیدرآباد (دکن فائلز) مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے مہدی پٹنم اور گڈی ملکاپور علاقوں میں پلائی ووڈ لے جانے والی ایک لاری پر مبینہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تلنگانہ اسٹیٹ انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ، حیدرآباد سٹی پولیس اسپیشل برانچ اور مقامی پولیس کی “مکمل ناکامی” قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے محض مویشیوں کی منتقلی کے شبہ میں رات دیر گئے لاری کا تعاقب کرتے ہوئے اس پر مختلف مقامات پر حملے کیے۔
امجد اللہ خان کے مطابق مذکورہ لاری میں مویشی نہیں بلکہ پلائی ووڈ کا سامان منتقل کیا جا رہا تھا، اس کے باوجود بجرنگ دل کے کارکنوں نے گاڑی کو نشانہ بنایا اور اس کے اگلے شیشے توڑ دیے۔ انہوں نے کہا کہ لاری پر پہلا حملہ جھرا، کاروان روڈ پر واقع رائل سی ہوٹل کے قریب کیا گیا، اس کے بعد کنگس فنکشن ہال کے پاس اور پھر مہدی پٹنم روڈ پر پلر نمبر 65 کے قریب دوبارہ حملہ کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر رات تقریباً ایک بجے 150 تا 200 افراد پر مشتمل ہجوم مختلف علاقوں میں آزادانہ طور پر کیسے گھومتا رہا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی؟ ان کے مطابق اگر اتنی بڑی تعداد میں افراد جمع ہو رہے تھے تو انٹیلی جنس اور اسپیشل برانچ کو اس کی پیشگی اطلاع کیوں نہیں ملی، اور اگر اطلاع ملی تھی تو اس پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
امجد اللہ خان نے کہا کہ تلنگانہ پولیس بارہا یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بجرنگ دل کے کارکن کھلے عام گاڑیوں کو روک کر شہریوں کو ہراساں کر رہے ہیں اور محض شبہ کی بنیاد پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
ایم بی ٹی ترجمان نے اس معاملہ پر اے آئی ایم آئی ایم کے صدر و رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور چندرائن گٹہ کے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے حیدرآباد اور تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں مسلم تاجروں اور ٹرانسپورٹرس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن اس مسئلہ کو ریاستی حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں نہیں اٹھایا جا رہا۔
انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے آیا تلنگانہ میں بیلوں کی منتقلی یا ذبیحہ پر کوئی پابندی عائد کی گئی ہے یا نہیں۔ اگر کوئی پابندی نہیں ہے تو پھر مسلم تاجروں کو کیوں ہراساں کیا جا رہا ہے اور گاؤ رکشک گروہوں کو کھلی چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے؟
امجد اللہ خان نے کانگریس کے اقلیتی قائدین کی خاموشی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت “سافٹ ہندوتوا” سیاست اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے عام شہریوں خصوصاً مسلمانوں میں خوف و بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری سخت کارروائی کی جائے، قانون ہاتھ میں لینے والے گروہوں پر قابو پایا جائے اور بے قصور شہریوں و تاجروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔


