حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کو ایک متنازع انتخابی تقریر کے معاملہ میں دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ خصوصی ایم پی۔ایم ایل اے عدالت نے انہیں پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
یہ معاملہ 2019 لوک سبھا انتخابات کے دوران دیے گئے ایک خطاب سے متعلق ہے، جس میں اعظم خان نے ضلع انتظامیہ اور سرکاری افسران کے بارے میں سخت ریمارکس دیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ افسران صرف تنخواہ لینے والے ملازم ہیں اور عوام کو ان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے بہوجن سماج پارٹی سربراہ مایاوتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں سینئر افسران ان کے جوتے صاف کرتے تھے، اور اگر اتحاد قائم رہا تو وہ دوبارہ ایسا منظر دیکھ سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد ان کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اعظم خان پہلے ہی کئی مقدمات میں قانونی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اس وقت رام پور جیل میں قید ہیں۔ گزشتہ برس جعلی دستاویزات اور دو مختلف پین کارڈ رکھنے کے معاملہ میں بھی انہیں اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔


