’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا ہندوستانی سیاست میں دھماکہ! نوجوانوں کا طنزیہ احتجاج یا نئی سیاسی بغاوت؟

حیدرآباد (دکن فائلز) نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے ایک متنازع تبصرہ کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (Cockroach Janta Party) اب ایک بڑے سیاسی و سماجی مباحثہ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ چند دن پہلے تک ایک طنزیہ آن لائن مہم سمجھی جانے والی یہ تحریک اب لاکھوں نوجوانوں کی ناراضگی، بے روزگاری، سیاسی مایوسی اور ڈیجیٹل احتجاج کی علامت بنتی جارہی ہے۔

یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی جب سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت کے مبینہ ’’کاکروچ‘‘ ریمارک پر سوشل میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد مہاراشٹرا کے ابھجیت ڈپکے نامی نوجوان نے طنزیہ انداز میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک آن لائن پلیٹ فارم شروع کردیا۔

ابھجیت ڈپکے، جو سیاسی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل مہمات سے وابستہ رہے ہیں، نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’تمام کاکروچز کے لیے نیا پلیٹ فارم لانچ کیا جارہا ہے۔‘‘ پارٹی کی رکنیت کے لیے جو شرائط رکھی گئیں وہ بھی طنزیہ تھیں، جن میں ’’بے روزگار ہونا، پروفیشنل انداز میں شکایت کرنا، اور مستقل آن لائن رہنا‘‘ شامل تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ طنزیہ مہم چند ہی دنوں میں غیر معمولی طور پر وائرل ہوگئی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق تین دنوں کے اندر ایک لاکھ سے زائد افراد نے اس تحریک سے جڑنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہزاروں نوجوانوں نے خود کو ’’کاکروچ‘‘ کہہ کر سیاسی نظام کے خلاف طنزیہ احتجاج شروع کردیا۔

پارٹی کے منشور میں بے روزگاری، امتحانی پیپر لیک، مہنگائی، نوجوانوں کی ذہنی پریشانی، سسٹم پر عدم اعتماد اور سیاسی اشرافیہ سے ناراضگی جیسے مسائل کو طنزیہ مگر سخت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس تحریک کی اصل طاقت اس کا ’’میم کلچر‘‘ اور Gen-Z نوجوانوں کی زبان میں بات کرنا ہے۔

ابھجیت ڈپکے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے پونے میں جرنلزم کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنس میں ماسٹرس کیا۔ وہ 2020 دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم سے بھی وابستہ رہے تھے، جہاں انہوں نے meme-based سیاسی مہمات پر کام کیا۔

اسی دوران ایک نئی طنزیہ تحریک ’’نیشنل پیراسائٹک فرنٹ‘‘ کے نام سے بھی سامنے آئی، جس نے سوشل میڈیا پر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے ساتھ مزاحیہ سیاسی مقابلہ شروع کردیا۔ دونوں گروپس کے درمیان میمز، طنزیہ پوسٹس اور سیاسی تبصروں کی جنگ نے انٹرنیٹ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب ابھجیت ڈپکے نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے مشتبہ سرگرمیوں کا سامنا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ فی الحال ایک طنزیہ ڈیجیٹل تحریک ضرور ہے، مگر اس نے ہندوستان کے نوجوان طبقہ کی گہری بے چینی کو نمایاں کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر روایتی سیاسی جماعتیں نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیں تو مستقبل میں ایسی ڈیجیٹل تحریکیں حقیقی سیاسی شکل بھی اختیار کرسکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں