حیدرآباد (دکن فائلز) بابری مسجد، گیان واپی، شاہی عیدگاہ اور کمال مولیٰ مسجد جیسے تنازعات کے بعد اب ملک کے معروف اسلامی تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش شروع ہوگئی ہے۔ اترپردیش کے سہارنپور ضلع میں ہندو شدت پسند تنظیم ’’ہندو رکشا دل‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے احاطہ کے نیچے ایک قدیم شیو مندر دفن ہے۔
رپورٹس کے مطابق تنظیم کے کارکنوں نے ضلع ہیڈکوارٹر پر احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کو یادداشت پیش کی اور مطالبہ کیا کہ دارالعلوم دیوبند کے اندر ’’سائنسی اور آثارِ قدیمہ‘‘ سروے کرایا جائے۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے لَلِت شرما نے دعویٰ کیا کہ دارالعلوم کے نیچے تقریباً 14 فٹ گہرائی میں شیو مندر موجود ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر کھدائی میں شیو لنگ نہ ملا تو وہ ’’پھانسی کے لیے بھی تیار ہیں‘‘۔
ہندو رکشا دل کے کارکنوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ دیوبند دراصل قدیم ’’دیو ون‘‘ تھا، جہاں دیوی دیوتاؤں کا مقام موجود تھا۔ بعض ویڈیوز میں شدت پسند کارکن ’’دیو ون میں شیو مندر لے کر رہیں گے‘‘ جیسے نعرے لگاتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
تاہم اب تک اس دعویٰ کے حق میں کوئی تاریخی، قانونی یا آثارِ قدیمہ سے متعلق ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، نہ ہی انتظامیہ نے کسی سرکاری جانچ یا کھدائی کا اعلان کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات ملک میں مذہبی کشیدگی بڑھانے اور تاریخی مسلم اداروں کو متنازع بنانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند برصغیر کا ایک عظیم اور تاریخی اسلامی تعلیمی ادارہ ہے، جس کی بنیاد 1866 میں رکھی گئی تھی۔ یہ ادارہ صرف دینی تعلیم ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کرچکا ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے وابستہ علماء نے برطانوی استعمار کے خلاف تحریکات میں حصہ لیا اور اتحاد و اخوت کا پیغام دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ برسوں میں تاریخی مساجد، مدارس اور اسلامی مقامات سے متعلق نئے نئے دعوے سامنے آنا ایک تشویشناک رجحان بنتا جارہا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ عدالتوں اور انتظامیہ کو ایسے بے بنیاد دعوؤں کے بجائے ملک میں امن، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دینی چاہیے۔


